Monday - 2018 Nov 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 196251
Published : 6/11/2018 15:19

ایران میں جوہری ٹیکنالوجی اور پابندیوں کی تاریخ!!!

اصل پابندی کا مسئلہ جوہری ٹیکنالوجی نہیں ہے بلکہ ممالک کا استقلال اور خود ارادیت ہے جو ملک بھی مستقل ہونا چاہتا ہے اور استعماری چرخے سے نکل جانے کا خواہاں ہے اس پر پابندیاں لگائی جائیں گی اور جوہری ٹیکنالوجی کا حصول بہت سے ممالک کے استقلال و خود ارادیت کے پاؤں میں ڈالنے والی زنجیر کا کام کرتی ہے۔

ولایت پورٹل: ایران کے ایٹمی پروگرام کی تاریخ بہت پُرانی ہے اور حال ہی میں 4 نومبر 2018ء کو ایران پر ایک مرتبہ پھر امریکہ نے ایک طرفہ پابندیاں عائد کرکے اپنے استعماری و سامراجی رُخ کی نمائش کی ہے۔ان پابندیوں کے لگتے ہی ہر طرف عالمی میڈیا میں ایران و امریکہ کے تعلقات اور پابندیوں کے متعلق تبصرے ہونے لگے اور ایک بار پھر امریکہ کی دیدہ زوری کی مذمت کی جانے لگی۔
اطلاعات کے مطابق ایران میں سب سے پہلی بار 1959ء میں شاہی حکومت کے دوران ایٹمی پروگرام کی داغ بیل ڈالی گئی اور اس وقت کے امریکی صدر اییس ہنور  نے خود ہی ایک چھوٹا رییکٹور تہران کو تحفہ میں دیا اور اسے تہران یونیورسٹی میں نصب کروایا گیا۔
اور 1978ء میں ایران کے ماہر فیزک داں علی اکبر اعتماد سے چاہا کہ وہ ایٹمی پروگرام کی پیروی کرے. اسی اثناء میں جرمنی اور فرانس نے مشاقانہ طور پر ایران کے تیل کا پیسہ ہڈپنے کے لئے بوشہر کے ایٹمی پلانٹ کا سنگ بنیاد رکھا اور اس وقت کئی کروڑ ڈالر کی سرمایہ گذاری کا آغاز کیا گیا۔
ایران کے فراری بادشاہ نے فروری 1974ء میں یوروپ کے ایک نشریہ کو دیئے انٹریو میں عجیب طرح سے فخر کرتے ہوئے کہا کہ:’’کہ اب وہ دن دور نہیں کہ جب ایران کے پاس بھی ایٹمی بمب ہونگے ‘‘۔
ہندوستان میں جوہری سرگرمیاں شروع ہونے کے کچھ ہی دنوں بعد ایران کے بادشاہ کا یہ موقف میڈیا اور اخباروں کے ذریعہ نشر ہونا شروع ہوگیا۔
اب یہاں سوال یہ ہے کہ کیوں اس وقت ایران پر پابندیاں نہیں لگائی گئی جبکہ ایران کا بادشاہ ڈنکے کی چوٹ پر کہہ رہا تھا کہ ہم ایٹمی ہتھیار بنائیں گے؟
اس کی وجہ یہ تھی کہ اس وقت ایران اپنے تیل کی تمام درآمد کو خرچ کرکے ایٹمی پلانٹ کی ضروریات کا سارا سامان ان ممالک سے خریدتا تھا جو آج ایران پر پابندی لگانے میں پیش پیش ہیں۔
اور مزے کی بات یہ ہے کہ اس وقت ایران پر پابندی نہ ہونے کے ساتھ ساتھ امریکہ کی بڑی بڑی ہتھیار بنانے والی کمپنیاں ایران کو بہت سے ہتھیار فروخت کرتی تھیں۔
اُس وقت کے ایران کی مثال بالکل آج کے سعودی عرب کی سی ہے کہ وہ اپنے تیل کا سرمایہ خرچ کرکے امریکہ اور دیگر استعماری ممالک سے جوہری ٹیکنالوجی اور جوہری ہتھیار خریدتا ہے۔
لیکن ایران میں اسلامی انقلاب  کی کامیابی کے بعد کئی سال تک جوہری ٹیکنالوجی کا پروگرام تعطل کا شکار رہا اور بیرونی بڑی کمپنیاں ایران چھوڑ کر چلی گئی اور تو اور وہ ایران کے ساتھ مختصر تعاون کے لئے بھی تیار نہ ہوئیں۔لیکن کچھ عرصہ بعد ایران کے دانشوروں اور سائنس دانوں نے ہمت کا مظاہرہ کیا اور عوام کی پشتپاہی کے سہارے میدان عمل میں قدم رکھا اور کچھ ہی سالوں میں وہ جوہری ٹیکنالوجی کے نشیب و فراز سے واقف ہوگئے اور انہوں نے بڑی مقدار میں جوہری توانائی کا مواد اولیہ حاصل کرلیا۔
اور ان جواں ہمت دانشوروں نے جوہری ٹیکنالوجی میں وہ مہارت حاصل کی کہ اب ایران ان معدودے چند ممالک کی فہرست میں شامل ہوگیا جو جوہری ٹیکنالوجی سے مالا مال تھے۔
پس اگر تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ سمجھ میں آجائے گا کہ ایران میں جوہری توانائی کا حصول امریکی و استعماری پابندیوں کی اصلی وجہ نہیں ہے بلکہ انقلاب اسلامی کی کامیابی سے پہلےتو وہ ممالک خود اسی ملک میں اپنے نفوذ کی بدولت بادشاہی نظام کے لئے جوہری پلانٹ بنارہے تھے اور یہاں کے تیل کی درآمد کو ہڈپ رہے تھے ۔
اصل پابندی کا مسئلہ جوہری ٹیکنالوجی نہیں ہے بلکہ ممالک کا استقلال اور خود ارادیت ہے جو ملک بھی مستقل ہونا چاہتا ہے اور استعماری چرخے سے نکل جانے کا خواہاں ہے اس پر پابندیاں لگائی جائیں گی اور جوہری ٹیکنالوجی کا حصول بہت سے ممالک کے استقلال و خود ارادیت کے پاؤں میں ڈالنے والی زنجیر کا کام کرتی ہے۔

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Nov 19