Wed - 2018 Nov 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 196255
Published : 6/11/2018 16:16

گناہ؛نیکیوں میں کیسے بدل جاتے ہیں(3)

جب انسان توبہ کرتا ہے اور دل میں اپنےماضی کے گناہوں پر پشیمانی کا اظہار کرتا ہے تو خداوند عالم اس کی توبہ کا پاس و لحاظ کرتے ہوئے اس کے گناہوں کے عذاب و سزا سے درگذر کردیتا ہے اور ان کی جگہ نیک اعمال، اسے بطور تحفہ دیدیتا ہے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! ہم نے مسلسل اس موضوع’’ گناہ؛نیکیوں میں کیسے بدل جاتے ہیں‘‘پر 2 آرٹیکل پیش کئے جن میں یہ گذارش کرنے کی کوشش کی کہ اگر انسان کے ذمہ حقوق العباد نہ ہوں اور وہ صدق دل سے توبہ کرلے تو اس کی بُرائیاں اچھائیوں میں تبدیل ہوجاتی ہے اور ساتھ ہی اس تبدیلی کی کیفیت کا تذکرہ بھی کیا لہذا آج بھی ہم بُرائیوں کے نیکیوں میں بدل جانے کی کچھ دیگر کیفیات کو پیش کررہے ہیں آئیے جدید آرٹیکل سے پہلے نظر ڈالتے ہیں پچھلی ہیڈنگس پر:
گناہ؛نیکیوں میں کیسے بدل جاتے ہیں(1)
گناہ؛نیکیوں میں کیسے بدل جاتے ہیں(2)
گذشتہ سے پیوستہ:
3۔اعمال کا عقاب و سزا کا ثواب میں تبدیل  ہوجانا
جب انسان توبہ کرتا ہے اور دل میں اپنےماضی کے گناہوں پر پشیمانی کا اظہار کرتا ہے تو خداوند عالم اس کی توبہ کا پاس و لحاظ کرتے ہوئے اس کے گناہوں کے عذاب و سزا سے درگذر کردیتا ہے اور ان کی جگہ نیک اعمال، اسے بطور تحفہ دیدیتا ہے۔( مفاتیح الغیب -تفسیر کبیر فخر رازی-، ج‏24، ص 485)
4۔بدی کی عادت کا اچھائیوں کے ملکہ میں تبدیل ہوجانا
توبہ انسان کے ضمیر اور داخل کو تبدیل کردینے کا ذریعہ ہوتا ہے جس کے سبب انسان اپنے کو بُرائیوں سے دور کرلیتا ہے اوراچھائیوں کی طرف دعوت دیتا ہے اور اللہ تعالٰی بھی اس کی مدد کرتا ہے اور اس کی بُری عادتوں کو نیک طور طریقوں میں بدل دیتا ہے۔( منهج الصادقین، ج 6، ص 421)
5۔بُے اعمال کے وضعی اثرات کا زائل ہوجانا
اعمال و رفتار میں فرق و امتیاز اللہ کے حکم اور اس کی موافقت و مخالفت کی بنیاد پر ہوتا ہے ورنہ ظاہر میں بہت سے ایسے اعمال ہیں جن میں کوئی فرق نظر نہیں آتا مثلاً روزی حلال اور حرام میں کوئی فرق نہیں اسی طرح عقد نکاح کے ذریعہ کی جانے والی شادی اور زنا میں کوئی فرق نہیں بلکہ رزق حرام اس وجہ سے حرام ہے کہ اللہ نے اس سے منع کیا ہے زنا اس وجہ سے حرام ہے کہ اللہ اسے پسند نہیں کرتا پس گناہ خود فعل کو نہیں کہتے بلکہ اس وجہ سے وہ گناہ ہے چونکہ اس کے بُرے آثار انسان کی روح پر پڑتے لہذا اللہ نے ان سے منع کررکھا ہے۔
پس جب انسان کا ناپاک نفس توبہ کے ذریعہ پاک ہوجاتا ہے اور ایمان و عمل صالح کی پاکیزہ ذات میں تبدیل ہوجاتا ہے  لہذا ماضی میں کئے گئے گناہوں کے بُرے اثرات بھی انسان کے نفس سے دھل جاتے ہیں اور ان کے آثار،خیر میں بدل جاتے ہیں۔ چونکہ یہ آثار اس نفس سے مطابقت رکھتے ہوں جو توبہ کرکے ابھی ابھی پاک ہوا ہے۔( المیزان فی تفسیر القرآن، ج‏15، ص 24)
پیغمبر اکرم(ص) سے ایک معروف حدیث نقل ہوئی ہے آپ نے ارشاد فرمایا:’’ أرْبَعٌ مَنْ کُنَّ فِیهِ وَکَانَ مِنْ قَرْنِهِ إلَی قَدَمِهِ ذُنُوباً بَدَّلَها اللهُ حَسَناتٍ‘‘چار چیزیں سئیات و برائیوں کو نیکوں میں تبدیل کردیتی ہیں:
1۔’’ الصِّدْقُ‘‘ سچ بولنا،اللہ کو سچ بولنے والے بہت پسند ہیں چونکہ وہ خود صادق اور عین صدق ہے۔اگر کوئی صداقت مزاج و صداقت شعار ہو تو اللہ اس کی بُرائیوں سے درگذر کردیتا ہے۔
2۔’’وَالحَیاءُ‘‘۔ اگر کوئی باحیا ہو تو اللہ اس کے گناہوں کو بخش دیتا ہے اور اس کے گناہوں کو محو کردیتا ہے اور ان کی جگہ نیکیاں لکھ دیتا ہے۔
3۔’’وَحُسْنُ الخُلْق‘‘۔ اچھا اخلاق، انسان کُڑھنے لگتا ہے ایسے لوگوں کے بارے میں سوچ کر کہ جن کی نمازیں،روزے،غریبوں کی امداد وغیرہ تو صحیح ہو لیکن اپنے بیوی بچوں کے ساتھ ان کا برتاؤ اچھا نہ ہو لہذا ان کا یہ بُرا برتاؤ ان کے نیک اعمال کے غارت ہوجانے کا سبب بن جاتے ہیں۔
4۔’’وَالشُّکر‘‘ ۔ اللہ کی نعمتوں کا شکر کرنے والا۔پس جو شخص اللہ کی نعمتوں کے مقابل شکر بجالاتا ہے اللہ اس کی بُرائیوں سے درگذر کردیتا ہے۔

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Nov 21