Tuesday - 2018 Nov 13
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 196261
Published : 6/11/2018 18:19

وفات پیغمبر اکرم(ص) اور شہادت امام حسن(ع)

امام حسن(ع) کو زہر دیکر شہید کردیا گیا اور اس سے بڑی مصیبت اور کیا ہوگی کہ خود آپ کو آپ کی بیوی نے زہر دیدیا اور ابھی گھر سے جنازہ تدفین کے لئے قبر نبی پر پہونچا ہی تھا کہ آپ کے جنازے پر حاکم مدینہ اور دیگر اشرار امت کے ذریعہ تیر بارانی کردی گئی۔

ولایت پورٹل: 28 صفر المظفر بڑی غمگداز تاریخ ہے چونکہ اس دن سرور کائنات ختمی مرتبت حضرت محمد مصطفٰی(ص) کی وفات اور سبط اکبر،سید جوانان جنت کریم اہل بیت حضرت امام حسن(ع) کی شہادت کی تاریخ ہے۔
حضرت رسول خدا(ص) اللہ کی سب سے پہلی مخلوق،نور اول ایسی ذات کہ خود اللہ تعالٰی نے قرآن مجید میں بارہا جس کی مدح و توصیف بیان فرمائی ہے۔
رسول اکرم(ص) کے فضائل و مناقب میں بہت سی باتیں ہیں لیکن یہاں پر جو بات لائق بیان ہے وہ یہ ہے کہ رسول اکرم(ص) کی مصیبت جیسی کوئی بڑی مصیبت نہیں ہے جیسا کہ امام باقر علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں:’’ من أصيب بمصيبة فليذكر مصابه بالنبي (صلي الله عليه و آله) فانه من أعظم المصائب‘‘۔(كافي ج۳ ص۲۲۰)
ترجمہ:جو شخص کسی مصیبت میں گرفتار ہو تو اسے رسول اکرم(ص) کی مصیبت کو یاد کرلیناچاہیئے بے شک نبی خدا(ص) کی مصیبت سب سے بڑی مصیبت ہے۔
اگرچہ شیعہ منابع روایات میں رسول خدا(ص) کی حیات طیبہ کے آخری دنوں اور آخری لمحات کے بارے میں متعدد جزئیات نقل ہوئی ہیں لیکن ایک منظر اہل سنت کی مشہور و معتبر کتاب صحیح بخاری میں اس طرح نقل ہوا ہے:
جب رسول اکرم(ص) پر بخار کا عارضہ شدید ہوا تو ارشاد فرمایا:ایک کاغذ لیکر آؤ تاکہ میں تمہارے لئے ایک ایسا نوشتہ لکھ دوں جس کے سبب تم میرے بعد گمراہ نہیں ہونگے،خلیفہ ثانی عمر بن خطاب نے کہا:رسول خدا(ص) پر بخار کا غلبہ ہوگیا ہے اور ہمارے پاس اللہ کی کتاب ہے جو ہمارے لئے کافی ہے،پس بزم میں موجود دیگر اصحاب میں اختلاف پیدا ہوا اور چی میگوئیاں شروع ہوگئیں،رسول اکرم(ص) نے فرمایا:میرے پاس سے چلے جاؤ اور مناسب نہیں ہے کہ تم میرے پاس بیٹھ کر اختلاف و نزاع کرو،پس ابن عباس بزم سے چلے گئے اور کہہ رہے تھے:مصیبت! ہائے مصیبت!ہائے افسوس ایک وہ دن بھی آیا جس میں لوگ رسول خدا(ص) اور اس نوشتہ کے درمیان حائل ہوگئے‘‘۔(صحيح بخاري ج۱، ص۳۶)
اسی طرح ابن عباس کہتے ہیں:’’جب رسول اکرم(ص) کی وفات کا زمانہ قریب تھا رسول خدا(ص) گریہ فرمانے لگے یہاں تک کہ آپ کی ریش مبارک اشکوں سے تر ہوگئی پس آپ سے کہا گیا:یا رسول خدا(ص) کون سی چیز آپ کے رونے کا سبب بنی ہے؟فرمایا:میں اپنے بچوں کے حالات پر رو رہا ہوں کہ میری امت کے اشرار میرے بعد ان کے ساتھ بڑا ناروا برتاؤ روا رکھیں گے ،گویا میں اپنی بیٹی فاطمہ(س) کو دیکھ رہا ہوں کہ میرے بعد اس پر مظالم ہورہے ہیں اور وہ فریاد بلند کررہی ہے اور میری امت میں سے کوئی بھی اس کی فریاد کو نہیں پہونچ رہا ہے۔
فاطمہ زہرا(ص)نے جب بابا کی گفتگو سنی تو رونے لگیں اللہ کے رسول(ص) نے فرمایا: میری بیٹی! گریہ نہ کرو!حضرت زہرا(س) نے جواب دیا :بابا میں اس وجہ سے نہیں رو رہی ہوں کہ آپ کے بعد مجھ پر کیا ہوگا بلکہ میں تو آپ کے فراق و جدائی کے سبب رو رہی  ہوں۔
رسول اکرم(ص) نے حضرت فاطمہ زہرا(س) کو مژدہ دیتے ہوئے فرمایا:فاطمہ! میری بیٹی تم میرے اہل بیت(ع) میں، سب سے پہلے میرے ساتھ ملحق ہوجاؤ گی۔ (امالي شيخ طوسي ص۱۸۸)
نیز یہ تاریخ(28 صفر) سبط اکبر امام حسن علیہ السلام کی مظلومانہ شہادت سے منسوب ہے یہ وہ امام ہیں جنہیں اللہ کے رسول(ص) نے سید جوانان جنت کہا ہے امام حسن(ع) اپنی زندگی میں بہت سے حادثات اور تلخ حالات سے روبرو ہوئے ہیں یہاں تک کہ وہ لوگ کہ جنہیں آپ کے مقام و مرتبہ کا ذرا بھی عرفان نہیں تھا جیسے ہی ان لوگوں نے آپ کی معاویہ کے ساتھ صلح کی خبریں سنیں وہ بھی آپ کے خیمہ پر حملہ ور ہوگئے۔
جانماز کو آپ کے پاؤں کے نیچے سے کھینچا گیا اور آپ کے پائے اقدس کو زخمی کردیا گیا بغیر یہ جانے ہوئے کہ امام معصوم اور حجت خدا کا ہر کام مشیت الہی کا پابند ہوتا ہے جس پر اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی چونکہ حجت خدا پر اعتراض درحقیقت مشیت خدا پر اعتراض ہے اور امام کا عمل حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔
آخرکار امام حسن(ع) کو زہر دیکر شہید کردیا گیا اور اس سے بڑی مصیبت اور کیا ہوگی کہ خود آپ کو آپ کی بیوی نے زہر دیدیا اور ابھی گھر سے جنازہ تدفین کے لئے قبر نبی پر پہونچا ہی تھا کہ آپ کے جنازے پر حاکم مدینہ اور دیگر اشرار امت کے ذریعہ تیر بارانی کردی گئی۔

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Nov 13