Friday - 2018 Nov 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 196263
Published : 6/11/2018 18:59

جدید میڈیکل اور طب معصومین(ع) میں مسور کی دال کے فوائد

ایک دیگر حدیث میں مرقوم ہے کہ:’’مسور کی دال سے پیاس زائل ہوتی ہے،معدہ کو قوت ملتی ہے ،صفرہ کو ماند کرتی ہے،معدہ کو صاف کرتی ہے خون کی حدت و حرارت کو برطرف کرتی ہے غرض! مسور کی دال 70 امراض میں شفا دیتی ہے‘‘۔

ولایت پورٹل: مسورکی دال انسانی خوراک کے لئے کاشت کی جانے والی نباتات میں اولیں تصور کی جاتی ہے۔ زمانہ قدیم میں یونان اور روم میں یہ دال بہت شوق سے کھائی جاتی تھی۔
غذائیت کے لحاظ سے مسور کی دال میں بارہ فیصد رطوبت، پچیس فیصد پروٹین، ساٹھ فیصد کاربوہائیڈریٹس پائی جاتی ہے جبکہ پوٹاشیم اور فاسفورس بھی وافر مقدار میں موجو د ہوتی ہے۔
مسورکی دال کی لذت اپنی جگہ لینے اسے روزانہ کھانے کے طبی فائدے بھی بہت ہیں۔ کہا جاتا ہے مسور کی دال دل کو سبک اور نرم کرتی ہے اور آنکھ سے پانی کے اخراج کو کم کرتی ہے۔
مسور کی دال آئرن اور پروٹین کا بہترین ذریعہ ہے، جو خلیوں کی نشوونما کے لئے اہم ہے جس میں بالوں کے خلئے بھی شامل ہیں۔یہ دال بالوں کی جڑوں کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ بالوں کو درکار اہم غذا کی صلاحیت رکھتی ہے۔
مسورکی دال ہائی بلڈپریشراور شوگرلیول کو کنٹرول کرنے کے لئے انتہائی مفید ہے۔یہ کولیسٹرول کو کم کرکے دل کو صحت مند رہنے میں مدد دیتی ہےاور وزن کم کرنے کی بے پناہ صلاحیت رکھتی ہے۔
مسورکی دال کھانے والوں کی جلدخراب نہیں ہوتی اور وہ اپنی عمر سے انتہائی کم دکھائی دیتے ہیں۔وٹامن کی خاصی مقدار رکھنے کی بدولت یہ ہڈیوں اوردانتوں کو بھی مضبوط بناتی ہے۔
مسور کی دال میں چونکہ وٹامن اے، بی اور ای پائے جاتے ہیں لہذا یہ بینائی بڑھانے میں بھی خاصی معاون ثابت ہوتی ہے۔اگرآپ چاہتے ہیں کہ آپ کا چہرہ ہمہ وقت چمکتا دمکتا رہے تو مسور کی دال کو اپنی روزمرہ خوراک میں شامل کرلیں۔
مسورکی دال کے ایک پیالے میں اتنی غذائیت موجود ہوتی ہے جو آپ کے دن بھر کے کھانے کی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے کافی ہے۔
موجودہ میڈیکل سائنسی انکشافات کے علاوہ طب معصومین(ع) میں بھی مسور کی دال کے بے پناہ فوائد بیان ہوئے ہیں اور خیر کے ساتھ اس کا تذکرہ ہوا ہے:
چنانچہ ایک روایت میں نقل ہوا ہے کہ ایک شخص نے پیغمبر اکرم(ص) کی خدمت میں آکر اپنے دل کی قساوت اور سختی کے متعلق شکایت کی تو آپ نے اسے مسور کی دال کھانے کی نصیحت فرمائی۔(محاسن، ج 2، ص504)
امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب(ع) نے ارشاد فرمایا:’’مسور کی دال کھانے سے دل نرم ہوتا ہے اور آنکھوں سے اشکوں کی روانی میں اضافہ ہوتا ہے‘‘۔(طب الائمہ (ع)، سید شبر، ص196)
ایک دیگر حدیث میں مرقوم ہے کہ:’’مسور کی دال سے پیاس زائل ہوتی ہے،معدہ کو قوت ملتی ہے ،صفرہ کو ماند کرتی ہے،معدہ کو صاف کرتی ہے خون کی حدت و حرارت کو برطرف کرتی ہے غرض! مسور کی دال 70 امراض میں شفا دیتی ہے‘‘۔(مکارم الاخلاق، ص 215)

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 Nov 16