Monday - 2018 Nov 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 196279
Published : 8/11/2018 11:36

امریکی تاریخ میں پہلی مرتبہ مسلمان خواتین کانگریس کی رکن منتخب

امریکی وسط مدتی انتخابات میں امریکی ایوان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ مسلمان خواتین کانگریس کی رکن منتخب ہوئیں ہیں۔

ولایت پورٹل:میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ میں جاری مڈ ٹرم انتخابات میں فلسطینی نژاد راشدہ طالب مشی گن سے اور صومالی نژاد الہان عمر منی سوٹا سے منتخب ہوئیں،امریکی ریاست مینی سوٹا سے منتخب ہونے والی 36 سالہ الہان عمر امریکی کانگریس کے رکن کیتھ ایلیسن کی جگہ عہدہ سنبھالیں گی، کیتھ ایلیسن ری پبلکن رہنما ڈاگ وارڈلو کو شکست دے کر مینی سوٹا کے اٹارنی جنرل منتخب ہوئے تھے، دو ماہ قبل ایک انٹرویو میں بات کرتے ہوئے عمر کا کہنا تھا کہ میں نے امریکہ منتقل ہونے اور خوراک کے بارے میں پریشان پناہ گزین بچوں کے ساتھ اسکول جانے کا کبھی نہیں سوچا تھا، عمر الہان نے بچپن میں چار سال پناہ گزینوں کے کیمپ میں گزارے تھے،دو سال قبل الہان ریاستی مقننہ میں نمائندگی حاصل کرنے والی پہلی صومالی مسلمان خاتون تھیں جب کہ اسی رات امریکہ میں مسلمانوں کے داخلے پر پابندیوں کی بات کرنے والے ری پبلکن رہنما ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کے صدر منتخب ہوئے تھے،الہام عمر حجاب اوڑھنے والی کانگریس کی پہلی خاتون رکن ہوں گی،راشدہ طالب مشی گن میں مقیم فلسطینی مہاجر خاندان میں پیدا ہوئیں، 42 سالہ راشدہ بھی 2018 میں مشی گن کی مقننہ میں منتخب ہونے والی پہلی مسلمان رکن تھیں،گزشتہ روز اپنے ٹویٹر پیغام میں خوشی کا اظہار کرتے ہوئے راشدہ طالب کا کہنا تھا کہ ملک بھر کی خواتین الیکشن میں دکھائی دے رہی ہیں، انہوں نے لکھا کہ “ہم آرہے ہیں”، واضح رہے امریکہ میں ایوان نمائندگان کی تمام 435 سیٹوں پر انتخابات خواتین امیدواروں کی بڑی تعداد دکھائی دی، کئی ماہرین نے ان انتخابات کو خواتین کا سال قرار دیا،امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹک پارٹی کو برتری حاصل ہوگئی ہے،ماہرین کا کہنا ہے کہ وسط مدتی انتخابات کو اس لیے بہت اہمیت حاصل ہے کیونکہ ان انتخابات  سے اس بات کا اندازہ ہوجاتا ہے کہ کانگریس پر آئندہ کس کا کنٹرول ہوگا،سروے کے مطابق اس بات کا قوی امکان ہے کہ ان وسط مدتی انتخابات میں حکمراں جماعت ہی کو ایوان  بالا میں برتری حاصل رہی کیونکہ موجودہ صورتحال کچھ یوں ہے کہ اس الیکشن سے قبل حکمراں جماعت یعنی ریپبلیکن پارٹی کے پاس سینیٹ (ایوان بالا) میں 51 نشستیں تھیں جبکہ ڈیموکریٹس کے پاس 49 سیٹیں تھیں۔
ہم



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Nov 19