Wed - 2018 Nov 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 196289
Published : 10/11/2018 5:7

افغانستان میں 17سال سے جاری خانہ جنگی کے خاتمہ کے لیے روس میں امن مذاکرات کا آغاز

افغانستان میں طالبان اور حکومت کے درمیان 17 سال سے جاری خانہ جنگی کو ختم کرنے کے لیے امن مذاکرات کے انعقاد کے اعلان کے بعد سے امریکا سمیت مختلف ممالک کی جانب سے امن مذاکرات کو ملتوی کرنے کے لیے دباؤ کا سامنا رہا ہے تاہم روس نے ان ممالک کو شرکت کے لیے راضی کرلیا۔

ولایت پورٹل:افغانستان میں طالبان اور حکومت کو 17 سال سے جاری خانہ جنگی کو ختم کرنے کے لیے راضی کرنے اور کسی ممکنہ حل کی جانب پہلا قدم بڑھانے کے لیے روس نے کثیر الملک امن مذاکرات کا انعقاد کیا ہے،روس کی جانب سے امن مذاکرات کے انعقاد کے اعلان کے بعد سے امریکا سمیت مختلف ممالک کی جانب سے امن مذاکرات کو ملتوی کرنے کے لیے دباؤ کا سامنا رہا ہے تاہم روس کے صدر پیوٹن نے ان ممالک کو شرکت کے لیے راضی کرلیا،طالبان کی جانب سے بھی 6 نومبر کو اعلان کیا گیا تھا کہ قطر میں مقیم طالبان کے ایک وفد کو روس بھیجا جائے گا جو افغان جنگ کے خاتمے کے لیے تجاویز پیش کرے گا اور طالبان کے نکتہ نظر کو دنیا کے سامنے لایا جائے گا،روس امن مذاکرات کے لیے کافی پُرامید نظر آتا ہے، امریکا اور بھارت کو مذاکرات میں شرکت کے لیے راضی کرلینا ایک بڑی کامیابی سمجھی جارہی ہے اور عالمی قوتوں کے ایک ساتھ کسی مسئلے پر سر جوڑ کر بیٹھنے کی مثبت روایت کا آغاز ہوا ہے،واضح رہے کہ طالبان اور افغان حکومت کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے قطر میں طالبان کا سیاسی دفتر بھی کھولا گیا ہے جہاں امریکی فوج اور افغان حکومت کے اعلیٰ حکام نے طالبان نمائندوں سے گفت و شنید بھی کی تاہم اب تک حتمی نتیجے نہیں پہنچا جا سکا ہے۔
تسنیم



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Nov 21