Monday - 2018 Nov 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 196299
Published : 10/11/2018 16:33

پیغمبر اکرم(ص) کی دیگر انبیاء(ع) پر برتری کا راز(1)

یہاں سے یہ بات سمجھ میں آئی کہ ہر نبی اور رسول کو جو مرتبہ اور منصب دیا گیا ہے اس میں کہیں نہ کہیں اس کی معرفت،عمل اور کردار اور ذمہ داریوں کو صحیح ڈھنگ سے انجام دینا شامل ہے اب اگر ہمارے نبی حضرت محمد(ص) کو تمام انبیاء اور مرسلین پر افضیلت و فوقیت دی گئی ہے وہ اس وجہ سے ہے کہ آپ تمام انبیاء سے معرفت کے لحاظ سے سب سے افضل تھے،عمل کے لحاظ سے سب سے اعلٰی اور ذمہ داری اور پیغام خدا کو پہونچانے میں سب سے زیادہ کارگر تھے اور آپ نے اس راہ میں کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا اور آپ نے اس راہ میں بہت سی مشکلات کا سامنا کیا جس کا اندازہ حضرت(ص) کی اس حدیث سے لگایا جاسکتا ہے:’’ ما اوذی نبی قط،بمثل ما اوذیتُ ‘‘راہ ابلاغ دین میں جتنی اذیتیں مجھے پہونچی اتنی کسی نبی کو نہیں پہونچی۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! اللہ تعالٰی نے ہر موجود کو ایک خاص رتبہ سے نوازا ہے اس کائنات میں جو بھی موجود ہے وہ کسی نہ کسی رتبہ وجودی پر فائز ہے بروایتِ اٹھارہ ہزار عوالم اور انواع اس کائنات میں خلق کی گئی  ہیں کوئی پھتر ہے تو کوئی درخت،کوئی حیوان تو کوئی جن،کوئی انسان اور کوئی فرشتہ۔
پھر انسان بھی سب ایک درجہ اور کیٹاگری کے نہیں ہیں ان میں کچھ خراب ہیں تو کچھ اچھے اور چھوں میں بھی کچھ نبی، ولی اور امام ہیں اور پھر انبیاء میں بھی ہر نبی کا خاص مقام اور خاص رتبہ،ان میں کچھ صرف نبی ہیں اور کچھ کے پاس منصب نبوت کے ساتھ ساتھ عہدہ رسالت بھی ہے،اور رسولوں میں بھی کچھ اولوالعزم رسول ہیں اور کچھ غیر اولولعزم۔
اب ظاہر ہے کہ جس موجود کو جو بھی رتبہ اللہ کی طرف سے دیا گیا ہے وہ اس کی استعداد، صلاحیتوں کو دیکھ کر اور ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لحاظ سے دیا گیا ہے ۔
اور یہ ہماری اپنی فکر نہیں ہے کہ اللہ کے تمام نبی اور رسول ایک مرتبہ پر فائز نہیں ہیں اور ہر ایک کا مقام دوسرے سے مختلف ہے بلکہ قرآن مجید اس امر کی وضاحت فرماتا ہے چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:’’ تلک الرّسل فضّلنا بعضهم علی بعض‘‘یہ سب پیغمبر ہیں جن میں سے ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔(سورہ بقرہ:۲۵۳)
ایک دوسری آیت میں ارشاد ہوتا ہے:’’ لقد فضّلنا بعض النّبیّین علی بعض‘‘۔اور ہم نے بعض بندوں کو بعض پر فضیلت دی ہے۔(سورہ اسراء:۵۵)
اور روایات میں بھی اس موضوع پر بہت تأکید ہوئی ہے چنانچہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:’’ سادة النّبیّین و المرسلین خمسة... ـ و هم اولوالعزم من الرّسل و علیهم دارت الرّحی ـ نوح و ابراهیم و موسی و عیسی و محمّد صلّی اللّه علیه و آله و علی جمیع الأنبیاء‘‘۔سید و سرور انبیاء و مرسلین ۔۔۔۔۔۔ کہ جو اولولعزم پیغمبر ہیں اور جن کے وجود کی برکت سے خلقت کی چکی چل رہی ہے اور وہ 5 ذوات ہیں: نوح،ابراہیم،موسٰی ،عیسٰی اور محمد(ص)۔( تفسیر صافی، ملاّ محسن فیض کاشانی، دارالمرتضی، مشهد، چ 1، ج 3، ص 198)
خود سرکار رسالتمآب صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے نقل ہوا ہے:’’ انّ اللّه تعالی فضّل انبیائه المرسلین علی الملائکة المقرّبین و فضّلنی علی جمیع الأنبیاء و المرسلین... ‘‘۔اللہ تعالٰی نے، انبیائے مرسلین کو اپنے تمام مقرب فرشتوں پر فضیلت دی ہے اور مجھے تمام انبیاء مرسلین پر۔( تفسیر صافی، ملاّ محسن فیض کاشانی، دارالمرتضی، مشهد، چ 1، ج 3، ص 198)
اب ان مذکورہ دو احادیث کی روشنی میں اللہ کے بھیجے ہوئے نبیوں کے مقام و رتبہ کی ترتیب سمجھ میں آگئی:
۱۔سب سے پہلے انبیاء
۲۔رسولان برحق
۳۔الولعزم رسول
۴۔ان سب سے افضل و اعلٰی سرکار ختمی مرتبت حضرت محمد مصطفٰی(ص)۔
مایہ ناز اسلامی مفکر آیت اللہ مصباح یزدی(دام ظلہ) اس سلسلہ میں فرماتے ہیں:
نبی مصداق کے اعتبار سے رسول سے اعم ہوتا ہے یعنی تمام پیغمبروں کے پاس مقام نبوت  تو ہوتا ہے لیکن مقام رسالت ہر ایک نبی کو نہیں ملا بلکہ یہ منصب بس ایک گروہ سے متعلق ہے چنانچہ ایک روایت میں ملتا ہے کہ رسولوں کی تعداد 313 ہے اور پھر خود تمام رسول بھی مقام و فضیلت کے اعتبار سے مساوی نہیں تھے بلکہ ان میں کچھ وہ حضرات ہیں جن کے پاس مقام امامت بھی تھا وہ دیگر رسولوں سے افضل و برتر ہیں۔( آموزش عقاید،محمّدتقی مصباح یزدی،ج 8، 1381، ص 238)
پس ہمارے پاس مذکورہ نقلی دلائل کے ساتھ ساتھ عقلی دلائل بھی موجود ہیں کہ اگرچہ ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء(ع) ہدایت بشر کے لئے آئے ہیں لیکن سب کے مقام ان کے مقصد کمال،علم و عمل اور ذمہ داریوں کی ادائیگی کے پیش نظر مختلف تھے۔
اور ایسا بھی نہیں ہے کہ جس نبی کو جو مقام اللہ نے دیدیا وہ مقام اجباری اور قہری طور پر اسے دیا گیا ہو اور اس میں اس کے کردار،علم و عمل کا کوئی دخل ہی نہ ہو؟ نہیں! بلکہ اللہ تعالٰی نے عالم ارواح میں تمام انسانوں کا امتحان لیا جس نے جیسا امتحان دیا ویسا درجہ ملا۔
شاید کوئی یہ سوچے جب کسی نبی نے ابھی کوئی کام نہیں کیا اور کسی ذمہ داری کو ادا نہیں کیا تو کیسے معلوم کہ یہ مستقبل میں اپنی ذمہ داری صحیح طور پر ادا کرے گایا نہیں؟
اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ علم خداوندی میں یہ موجود ہے اور اللہ اپنے علم مایزال سے یہ جانتا ہے کہ یہ فرد کیا کام کرے گا اب کوئی یہ نہ کہے کہ علم خدا کا لازمہ یہ ہے کہ وہ ایسا ہی کرےجیسا اللہ نے اس کے لئے لکھ دیا ہے؟
قارئین ایسا نہیں ہے جیسا عام طور پر خیال کیا جاتا ہے۔بلکہ ہم اس کی مثال ایسے بھی دے سکتے ہیں جیسے آپ کسی راستے سے جارہے ہوں راستہ میں یک بیک آپ کی گاڑی میں کوئی مشکل پیدا ہوجائے آپ ، لب سڑک موجود مکینک کے پاس اُسے لے گئے اس سے کہا بھائی اسے دیکھ لو اس نے گاڑی کا معائنہ کیا اور کہا کہ اب یہ  تو میں نے درست کردیا لیکن 15 یا 20  کلومٹر چل کر اس کا فلاں پارٹ خراب ہوجائے گا اور آپ نے اس کے پیسہ دے کر پھر گاڑی دوڑا دی ابھی آپ 10 یا 12 کلو مٹر بھی نہ چلے تھے کہ مکینک کا بتایا ہوا پارٹ ٹوٹ گیا آپ کو ایمرجنسی بریک سے گاڑی روکنی پڑی اب آپ بتائیے کہ کیا یہ گاڑی آپ کی اس وجہ سے خراب ہوئی ہے مکینک نے کہا تھا ؟
ظاہر سی بات ہے کہ مکینک کے کہنے سے گاڑی کے خراب ہونے کا کوئی مطلب نہیں ہے بلکہ مکینک نے اپنے علم کے مطابق یہ اطلاع دی تھی۔ یہ پارٹ اس کے کہنے سے خراب نہیں ہوا بلکہ چونکہ وہ اپنے علم سے جانتا تھا کہ اب اس میں جان نہیں ہے اور اس طرح کی چیز 10 ، 20 کلومٹر سے زیادہ نہیں چل سکتی ۔بس ایسے ہی اللہ نے ہر ایک نبی کو اور رسول کو مقام دیا ہے چونکہ وہ اپنے علم ازلی سے جانتا تھا کہ یہ کونسی ذمہ داری کسی ڈھنگ سے انجام دےگا۔
پس یہاں سے یہ بات سمجھ میں آئی کہ ہر نبی اور رسول کو جو مرتبہ اور منصب دیا گیا ہے اس میں کہیں نہ کہیں اس کی معرفت،عمل اور کردار اور ذمہ داریوں کو صحیح ڈھنگ سے انجام دینا شامل ہے اب اگر ہمارے نبی حضرت محمد(ص) کو تمام انبیاء اور مرسلین پر افضیلت و فوقیت دی گئی ہے وہ اس وجہ سے ہے کہ آپ تمام انبیاء سے معرفت کے لحاظ سے سب سے افضل تھے،عمل کے لحاظ سے سب سے اعلٰی اور ذمہ داری اور پیغام خدا کو پہونچانے میں سب سے زیادہ کارگر تھے اور آپ نے اس راہ میں کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا اور آپ نے اس راہ میں بہت سی مشکلات کا سامنا کیا جس کا اندازہ حضرت(ص) کی اس حدیث سے لگایا جاسکتا ہے:’’ ما اوذی نبی قط،بمثل ما اوذیتُ ‘‘راہ ابلاغ دین میں جتنی اذیتیں مجھے پہونچی اتنی کسی نبی  کو نہیں پہونچی۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Nov 19