Sunday - 2018 Nov 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 196304
Published : 10/11/2018 18:4

قیامت میں حضرت زہرا(س) کے ساتھ محشور ہونے والی خواتین

میری امت میں تین طرح کی عورتوں کو فشار قبر نہیں ہوگا اور وہ میدان حشر میں بھی میری بیٹی فاطمہ(س) کے ساتھ محشور ہونگی:جو عورت اپنے شوہر کی تنگدستی و غربت میں بھی اس کا ساتھ دے،اس کی بد اخلاقی کے مقابلے صبر کرے۔شوہر کو مہر بخش دے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! موت ایک ایسی حقیقت کا نام ہے جو انسان کی زندگی کے اختتامی لمحات میں ضرور وقوع پذیر ہوگی اور اس مرحلہ میں معصومین علیہم السلام سے مروی احادیث ہی ہم لوگوں کا صحیح راستہ دکھا سکتی ہیں۔
ورنہ موت اور اس سے وابستہ امور کا نام سن کر انسان کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جیسا کہ روایات میں حالت احتضار اور پھر موت اور اس کے بعد قبر اور عذاب کا مرحلہ انسان کو ہلا کر دیتا ہے اور ساتھ ہی فشار قبر ایک ایسا مرحلہ ہے کہ جو اسلامی روایات میں ملتا ہے جس کا تذکرہ انسان پر بہت شاق گذرتا ہے اس کے تجربہ کی تو بات ہی کیا شاید یہ انسان کے تصور سے باہر ہو۔
انسان کے لئے موت کے بعد سب سے پہلی منزل کا نام قبر ہے اور اللہ تعالیٰ سورہ عبس کی 21 ویں اَیت میں ارشاد فرماتا ہے:’’ ثم أماته فأقبره‘‘۔پھر اس کو موت دی پھر اسے قبر میں پہنچایا۔ اور سورہ حج 7 ویں آیت میں ارشاد فرماتا ہے:’’وَ أَنَّ اللَّـهَ يَبْعَثُ مَن فِي الْقُبُورِ‘‘۔ اور یقیناً اللہ انہیں زندہ کرے گا جو قبروں میں ہیں۔
اور یہ بھی یاد رکھنا چاہیئے کہ قبر انسان کی حقیقی منزل نہیں ہے بلکہ قبر عالم برزخ تک پہونچنے کا راستہ ہے کہ جس سے آخرت تک ملحق ہوتا ہے چنانچہ انسان کے لئے یہ تین عالم متصور ہیں:
1۔دنیا
2۔برزخ
3۔آخرت
پھر تیسرا مرحلہ حساب کا ہے جہاں ہر ایک انسان کے اعمال کو تولہ جائے گا یہ ایک بہت سخت منزل  ہے یہاں شاید سب سے زیادہ انسان کو مشقت اٹھانا پڑے گی اور اس کا انتظام یہیں اس دنیا میں ہی کرنا ہوگا۔
لیکن اس مرحلہ میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ جن کا یہ سخت ترین مرحلہ بہت آسانی کے ساتھ گذر جائے گا جس طرح بہت سے مرد ایسے ہیں جن کا یہ مرحلہ آسان ہوگا ایسے ہی بہت سی خواتین بھی ایسی ہیں جنہیں اس مرحلہ میں چنداں دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔چناچنہ حضرت رسول اکرم(ص) نے ارشاد فرمایا:میری امت میں تین طرح کی عورتوں کو فشار قبر نہیں ہوگا اور وہ میدان حشر میں بھی میری بیٹی فاطمہ(س) کے ساتھ محشور ہونگی۔
الف)جو عورت اپنے شوہر کی تنگدستی و غربت میں بھی اس کا ساتھ دے اور اس سے بے جا مطالبہ نہ کرے۔
ب)جو عورت اپنے شوہر کی بد اخلاقی اور بدرفتاری کے مقابلے صبر و بردباری کا مظاہرہ کرے۔
ج)وہ عورت جو رضائے خدا کی خاطر اپنے مہر کو شوہر پر بخش دے۔

منبع:مواعظ العددیہ




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 Nov 18