Sunday - 2018 Nov 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 196307
Published : 10/11/2018 18:40

حدیث کی روشنی میں سب سے زیادہ اللہ سے دور کون؟

اللہ تعالى سے دور کرنے والى بہت سے چيزيں ہيں، بلکہ ہر جرم اور گناہ اور ہر غفلت کا کام اللہ تعالٰی سے انسان کو دور کردیتا ہے ليکن سب سے تيزى کے ساتھ فاصلے اور دورياں جس سے ايجاد ہوتے ہيں وہ’’دنيا ميں اپنے پيٹ و شرمگاہ ‘‘ کا ہم و غم اٹھانا اور انہى کى فکر کرتے رہنا ہے۔اس کا يہ مطلب نہيں ہے کہ اپنے پيٹ کا اہتمام نہ کرے يا جنسى ضروريات اور حقوق کو ترک کر دے، بلکہ يہاں مراد انسان افکار و خيالات ميں شکم اور جنسيات کے غلبہ کى نفى ہے۔

ولایت پورٹل: انسان کى قدر و قيمت اس کا قد کاٹھی، گھر بار، حسب نسب، منصب عہدہ يا شہرت و شہوت وغیرہ نہيں ہے بلکہ انسان کى نظر ميں کيا اہميت رکھتا ہے اور کيا نہيں؟ اس سے انسان پہچانا جاتا ہے۔ جس کا ہم و غم اور بھاگ دوڑ ، فکر و خيال صرف اپنا پيٹ اور اپنى جنسى امور کى انجام دہى سے متعلق ہو وہ انسانيت کے مقام سے گر کر حيوانيت کے زندان ميں بند ہو جاتا ہے۔
اللہ تعالى سے دور کرنے والى بہت سے چيزيں ہيں، بلکہ ہر جرم اور گناہ اور ہر غفلت کا کام اللہ تعالٰی سے انسان کو دور کردیتا ہے ليکن سب سے تيزى کے ساتھ فاصلے اور دورياں جس سے ايجاد ہوتے ہيں وہ’’دنيا ميں اپنے پيٹ و شرمگاہ ‘‘ کا ہم و غم اٹھانا اور انہى کى فکر کرتے رہنا ہے۔
اس کا يہ مطلب نہيں ہے کہ اپنے پيٹ کا اہتمام نہ کرے يا جنسى ضروريات اور حقوق کو ترک کر دے، بلکہ يہاں مراد انسان افکار و خيالات ميں شکم اور جنسيات کے غلبہ کى نفى ہے، کيونکہ جب پيٹ اور شرمگاہ کى فکر لاحق ہوتى ہے تو انسان بڑے سے بڑے جرم کو بھى انجام دينے سے نہيں کتراتا۔ پس ضرورى ہے کہ اللہ تعالى کو رازق مانا جائے اور پيٹ کے معاملات اللہ تعالى کے سپرد کرکے محتاجى سے بچنے کے ليے طلبِ رزق کيا جائے اور رزق حلال پر قناعت کى جائے۔ اسى طرح جنسيات کے امور حلال سے پورے کئے جائيں ۔ورنہ ايسى آس ، آگ اور تڑپ بھڑک اٹھے گى کہ اس کا منھ کبھى بھى بھرا نہيں جا سکے گا۔
شکم اور شرمگاہ کا گہرا تعلق ہے۔ پيٹ اور شکم ہميشہ شرمگاہ پر مقدم بيان کيا جاتا ہے کيونکہ شرمگاہ کے جتنے گناہ ہيں وہ پيٹ بھرنے اور پيٹ سے تعلق رکھنے والے امور سے متعلق ہيں۔ ان امور ميں اللہ کى ياد سے غافل نہ ہونا انسان کى نجات کا سبب ہے،چنانچہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:’’أَبْعَدُ مَا يَکونُ الْعَبْدُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ إِذَا لَمْ يُهِمَّهُ إِلَّا بَطْنُهُ وَ فَرْجُهُ‘‘۔ايک انسان اللہ عزوجل سے اس وقت سب سے زيادہ دور ہوتا ہے جب اسے اپنے پيٹ اور اپنى شرمگاہ کے علاوہ کسى دوسری چیز کی فکر نہيں رہتی۔(الکافى، ج ۲، ص ۳۱۹، حديث ۱۴)

 



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 Nov 18