Tuesday - 2018 Nov 13
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 196309
Published : 10/11/2018 19:17

اسلامی ثقافت کو بے اہمیت بنانے میں دشمنوں کی زیرکی اور مسلمانوں کا غیر جانبدارانہ رویہ

اگر مسلمانوں کو اپنے درخشاں ماضی کی تاریخ کی پاسداری کرتے ہوئے اپنے روشن مستقبل کی بنیاد ڈالنی ہے تو انہیں امت واحدہ بن کراپنے فکری اور ثقافتی ورثوں کو بچانا ہوگا ہمیں اس غیر جانبداری کے دلدل سے نکلنا ہوگا چونکہ ہمیشہ سے مسلمانوں کی کمی یہی رہی ہے کہ وہ زمانے میں رونما ہونے والے حالات کے مقابل خاموشی اختیار کرنے کو ترجیح دیتے رہے ہیں جبکہ اگر ہم کسی بھی مسلم ممالک کے مسائل کو پوری امت کا مسئلہ سمجھیں تو ناگزیر ہمیں تحرک ملے گا ہمارا جمود ٹوٹے گا۔

ولایت پورٹل: آج اس رسہ کشی کے دور میں ایک طرف مسلمان اپنے فکری اثاثے سے دور ہورہے ہیں اور دوسری طرف دشمن اسلامی تہذیب،تمدن اور ثقافت کو مٹانے کے لئے کاری ضربیں امت کے پیکر پر لگا رہا ہے اور یہ منصوبہ بندی بڑی عرصہ سے چل رہی ہے۔   
اسی وقت تہذیب و ثقافت کو بے اہمیت بنانے کا منصوبہ کامیاب ہو سکتا ہے جب امت اسلامی اپنی ثقافت کھو بیٹھے اور بے بند وبار ہو جائے تو ایسی صورت حال کے مد نظر، اس قوم میں دشمن سے مقابلہ اور استقامت کی قدرت باقی نہیں رہ جائے گی۔عالم استکبار کو دنیائے اسلام سے مفادات حاصل کرنے کے لئے دائمی مراکز قائم کرنے کا خواب و خیال دل و دماغ سے نکال دینا چاہیٔے، اس لئے کہ یہ خواب اپنی تعبیر کوحاصل نہ کر پائے گا اور فرنگیوں کو مجبور اور لاچارہو کر بڑی ہی ذلت و خواری سے الٹے پاؤں واپس پلٹنا پڑے گا۔
انہیں اسباب و عوامل کے تحت اگر مسلمان غفلت برتیں تو ملت اسلامیہ اپنی ثقافتی اقدار اور اس پر عائد ہونے والی ذمہ داریوں پر عمل نہ کرے اور اگر اپنی گذشتہ وراثتوں اور قدیم تمدن سے یکسر قطع رابطہ کرلے توبہت ہی آسانی سے دوسری قومیں تسلط حاصل کرکے ہماری ثقافت پر قابض ہو جائیں گی اور مسلمانوں پر ہر اعتبار سے مسلط ہو جائیں گی۔ آخر کار مسلمانوں کو مجبور ہوکر غیروں کی برتری کو قبول کرنا ہی پڑے گا۔ ایسی صورت حال میں دشمن مال، دولت و ثروت اور ہرخشک و تر پر اپنا قبضہ جما لینے پر قادر ہو جائے گا۔
وہ ارتباطی پل جو ہمارے حال کو ماضی سے جوڑتے اور اسی طرح وراثتوں اور ثقافتوں کو آپس میں ایک دوسرے سے ملادیتے ہیں وہ سبھی منہدم کردیئے جائیںگے۔ اس طرح سے دشمنوں کا اپنے مقصد کو جامۂ عمل پہنانے کا تصور ممکن ہو جائے گا۔ ایسی حالت میں عالمی استکبار ارتباطی پلوں کے منہدم کردینے کا جرأت مندانہ اظہار کرنے پر کمربستہ ہو جائے گا اس طرح سے دور حاضر( حال) کا زمانۂ ماضی سے جدائی کے تمام اسباب معلوم ہو جائیں گے۔ہماری حالیہ سیاسی اور ثقافتی زندگی میں بہت بڑا المیہ اورمصیبتیں رونما ہونے لگیں گی اور طرح طرح کی فضیحتیں دامن گیر ہو جائیں گی،اور تاریخ ان سیاہ کارناموں کو من و عن ثبت کرلے گی۔
لہذا اگر مسلمانوں کو اپنے درخشاں ماضی کی تاریخ کی پاسداری کرتے ہوئے اپنے روشن مستقبل کی بنیاد ڈالنی ہے تو انہیں امت واحدہ بن کراپنے فکری اور ثقافتی ورثوں کو بچانا ہوگا ہمیں اس غیر جانبداری کے دلدل سے نکلنا ہوگا چونکہ ہمیشہ سے مسلمانوں کی کمی یہی رہی ہے کہ وہ زمانے میں رونما ہونے والے حالات کے مقابل خاموشی اختیار کرنے کو ترجیح دیتے رہے ہیں جبکہ اگر ہم کسی بھی مسلم ممالک کے مسائل کو پوری امت کا مسئلہ سمجھیں تو ناگزیر ہمیں تحرک ملے گا ہمارا جمود ٹوٹے گا۔لیکن افسوس کسی ایک مسلمان ملک پر تنہا سمجھ کر یلغار کردی جاتی ہے اس کے ثقافتی اثاثوں کو تاراج کردیا جاتا ہے اور امت مسلمہ اسے افغانستان،پاکستان،روہینگیا،یمن،عراق اور شام کا مسئلہ قرار دے کر سکوت کو آواز حق بلند کرنے پر ترجیح دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں کیا مطلب یہ تو افغانستان میں ہورہا ہے ،یا یہ مسئلہ تو شام کا ہے ہمیں اس سے کیا لینا دینا جبکہ یہ سوچ سراسر غلط ہے چونکہ ہم جس رسول کی امت ہے ان کا فرمان ہے:’’ مَثَلُ المؤمنين في تَوَادِّهم وتراحُمهم وتعاطُفهم مثلُ الجسد، إِذا اشتكى منه عضو تَدَاعَى له سائرُ الجسد بالسَّهَرِ والحُمِّى‘‘۔مؤمنوں کی مثال ان کی دوستی اور اتحاد اور شفقت میں ایسی ہے جیسے ایک بدن کی (یعنی سب مؤمن مل کر ایک قالب کی طرح ہیں) بدن میں جب کوئی عضو درد کرتا ہے تو سارا بدن اس میں شریک ہو جاتا ہے نیند نہیں آتی، بخار آ جاتا ہے “ (اسی طرح ایک مؤمن پر آفت آئے خصوصاً وہ آفت جو کافروں کی طرف سے پہنچے تو سب مؤمنوں کو بےچین ہوجانا چاہیئے اور اس کا علاج کرنا چاہیئے۔




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Nov 13