Friday - 2019 January 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 197393
Published : 10/1/2019 9:6

سعودی خواتین کو مرد کی بات نہ ماننے پر جیل کی ہوا کھانا پڑ سکتی ہے

سعودی عرب میں کسی عورت سے متعلق اہم فیصلے کرنے کا اختیار اس کے والد، بھائی،شوہر یا بیٹے کے پاس ہے اوراگر وہ اس کی نا فرمانی کرتی ہے تو اسے گرفتار بھی کیا جا سکتا ہے۔
undefined
ولایت پورٹل:سعودی عرب میں خواتین کی ڈرائیونگ پرعائد پابندی اٹھالی گئی جسے عالمی پزیرائی ملی تاہم وہاں خواتین پراب بھی پابندیاں موجود ہیں جن میں مرد کی سرپرستی کا نظام شامل ہے،جس نظام کے تحت سعودی عرب میں کسی عورت سے متعلق اہم فیصلے کرنے کا اختیار اس کے والد، بھائی،شوہر یا بیٹے کے پاس ہے اوراگر وہ اس کی نا فرمانی کرتی ہے تو اسے گرفتار بھی کیا جا سکتا ہے،چند روز قبل ایک سعودی خاتون نے بینکاک کے ایک ہوٹل کے کمرے میں خود کو بند کر دیا تھا، اس کا کہنا تھا کہ اگر انہیں واپس سعودی عرب، ان کے گھر بھیجا گیا تو انہیں قید کیے جانے کا خطرہ ہے،اس کی ایک اور مثال یہ ہے کہ 2018 میں سماجی کارکن ثمر بداوی اپنا آبائی گھر چھوڑ کر ایک پناہ گاہ منتقل ہو گئی تھیں اور اس کی وجہ انہوں نے اپنے والد کی طرف سے اُن پر ہونے والا مبینہ جسمانی تشدد بتایا تھا جس کے بعد انہوں نے اپنے والد کی سرپرستی ختم کرنے کے لیے قانونی چارہ جوئی شروع کی،بداوی کا کہنا تھا کہ مبینہ جوابی کاروائی کے طور پر اُن کے والد نے اُن کے خلاف نافرمان ہونے کا دعویٰ دائر کردیا،واضح رہے سعودی عرب میں سرکاری اسکولوں میں خواتین کے کھیلوں اور خواتین کے فٹبال سٹیڈیم جا کرمیچ دیکھنے پرعائد پابندی بھی ختم کی گئی ہے تاہم اقوام متحدہ کے ماہرین نے فروری 2018 میں ملک میں خواتین سے امتیازی سلوک کی روک تھام سے متعلق مخصوص قانون اپنانے اور قانون کی عدم موجودگی پر تحفظات کا اظہار کیا تھا،سعودی عرب میں خواتین کی معاشرے اور معیشت میں شرکت میں بڑی رکاوٹ مرد کی سرپرستی کا نظام ہے۔
تسنیم




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2019 January 18