Wed - 2019 January 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 72047
Published : 31/3/2015 22:27

سعودی جارحیت: ممنوعہ ہتھیار استعمال کئے گئے

انسانی حقوق کی نگراں تنظیم نے ایک بیان میں یمن پر سعودی عرب کے ہوائی حملوں میں ممنوعہ ہتھیار کے استعمال پر تنقید کی ہے-
ہیومن رائٹس واچ نے اعلان کیا ہے کہ ایسی دستاویزات موجود ہیں کہ جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سعودی عرب نے یمنی عوام کے خلاف بمباری میں ان اسلحوں کا استعمال کیا ہے جن کا شمار عالمی سطح پر ممنوعہ ہتھیاروں میں ہوتا ہے۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سعودی افواج نے رہائشی مکانات، متعدد شہروں، فوجی مراکز اور بنیادی تنصیبات کو تباہ کرنے کی غرض سے کلسٹرڈ بم سمیت دیگر ممنوعہ ہتھیار استعمال کئے ہیں۔ دوسری جانب سعودی حارحیت کے خلاف یمن اور دنیا کے دیگر ممالک میں وسیع مظاہرے جاری ہیں۔ المنار ٹی وی چینل نے رپورٹ دی ہے کہ شامی طالب علموں اور دیگر نوجوانون نے دمشق میں اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے مظاہرہ کیا اور سعودی عرب کے اس وحشیانہ اقدام کی مذمت کی۔ مظاہرین، سعودی عرب کے اس جارحانہ اقدام کے فوری خاتمے کے خواہاں تھے۔ برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں مقیم یمنی باشندوں نے بھی سعودی عرب کے حملے کی مذمت کی ہے جس میں عورتوں اور بچوں کے شہید و ‎ زخمی اور بے گھر ہونے کی خبریں موصول ہورہی ہیں۔ یمن کے دارالحکومت صنعا میں بھی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے جہاں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے صنعا صوبے کے گورنر ہاؤس کے ایک اعلی عہدیدار عبداللہ محسن ضبعان نے تقریر کی۔ انہوں نے آل سعود اور اس کے آلہ کاروں کے جارحانہ اقدامات کا مقابلہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ضبعان نے کہا کہ سعودی بمبار طیارے، دراصل تمام یمنی قوم کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ مظاہرین نے یمنی فوج اور عوامی کمیٹیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اور ملک میں موجود امریکا اور سعودی عرب کے تربیت کردہ تکفیری عناصر کے خاتمے پر زور دیا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سعودی عرب نے اپنے اس اقدام کے ذریعے یمن کے اقتدار اعلی اور سلامتی کو نشانہ بنایا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ یمن کے عمران، ذمار اور المحویت سمیت متعدد دیگر صوبوں میں بھی سعودی جارحیت کے خلاف وسیع پیمانے پر مظاہرے ہوئے ہیں۔ مظاہرین نے یمنی فوج اور عوامی فورس کے ساتھ اظہار یکجہتی بھی کیا۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2019 January 16