Friday - 2018 Oct. 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 72116
Published : 3/4/2015 19:4

ایٹمی معاہدے کے فریم ورک پر اتفاق پر ردعمل

ایران اور گروپ پانچ جمع ایک گروپ کے درمیان ایٹمی معاہدے کے فریم پر اتفاق کے بعد مختلف عالمی شخصیتوں نے اس کا خیرمقدم کیا ہے- اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے ایران اور گروپ پانچ جمع ایک گروپ کے درمیاں ایٹمی معاہدے کے فریم ورک پر اتفاق ہوجانے کے بعد ایران کی مذاکرات کار ٹیم کا شکریہ ادا کیا ہے- صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے اپنے ٹوئیٹر پر وزیر خارجہ ڈاکٹر محمد جواد ظریف، قومی ایٹمی ادارے کے سربراہ ڈاکٹر علی اکبر صالحی اور تمام مذاکرات کاروں کا شکریہ ادا کیا- دریں اثنا روس کی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کرکے اعلان کیا ہے کہ ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان ہونے والے اتفاق سے مشرق وسطی کے حالات پر یقینا مثبت اثرات مرّتب ہوں گے- روسی وزارت خارجہ کے بیان میں آیا ہے کہ لوزان میں ہونے والا اتفاق، قانونی لحاظ سے عالمی تعلقات کے استحکام اور پیچیدہ عالمی مسائل کو مذاکرات اور سفارتی طریقے سے حل کرنے کا واضح نمونہ ہے- اس بیان میں آیا ہے کہ یقینا یہ سمجھوتہ، مشرق وسطی کے بحرانوں کو حل کرنے میں ایران کی فعال مشارکت کے پیش نظر، نیز مختلف لحاظ سے اس علاقے کے سیکورٹی حالات پر مثبت اثرات کا باعث بنے گا- دریں اثنا اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ میں قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے سربراہ علاء الدین بروجردی نے ایران اور گروپ پانچ جمع ایک گروپ کے لوزان اتفاق کے بعد امریکی صدر کے بیان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر نے اپنے بیان سے ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں اپنے ماضی کے مواقف پر پردہ ڈالنےکی کوشش کی ہے- علاءالدین بروجردی نے کہا کہ امریکہ، اپنی عادت کے مطابق ہر طرح کی ایٹمی سرگرمی کو ایٹمی ہتھیاروں کے تجربے کی کوشش سمجھتا تھا اور ایران کی ایٹمی سرگرمیوں کے بارے میں بھی، اس کا یہی خیال تھا لیکن بارک اوباما نے اپنے بیان سے ان مواقف پر پرڈہ ڈالنے کی کوشش کی ہے- انہوں نے کہا کہ اوباما کا خطاب خاص طور سے صیہونی حکومت، امریکی کانگریس اور مشرق وسطی میں امریکی اتحادیوں کے لئے تھا- علاالدین بروجردی نے کہا کہ امریکی صدر کی جانب سے یہ تسلیم کرلینا کہ ایران کا ایٹمی پروگرام، پر امن ہے ایک اہم بات ہے کیونکہ امریکی حکومتیں، اس بات کا اعتراف کرنے سے گریز کررہی تھیں- انہوں نے کہا کہ دراصل اوباما کی جانب سے ایران کے ایٹمی حقوق کا اعتراف، امریکہ کی غلط پالسیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے- انہوں نے کہا کہ یہ باتیں محض سیاسی دکھاوا ہے اور لوزان بیان کے پیش نظر مغرب نے سارے حقائق قبول کرلئے ہیں کہ ایران کی ایٹمی سرگرمیاں مکمل طرح سے پرامن ہیں- قابل ذکر ہے کہ امریکی صدر اوباما نے ایران اور پانچ جمع ایک گروپ کے درمیاں لوزان میں طے پانے والے بیان کو تاریخی بیان قرار دیا ہے- انہوں نے یہ دعوی بھی کیا کہ صرف پابندیوں سے ایران کے ایٹمی پروگرام پر روک نہیں لگائی جاسکتی تھی بلکہ پابندیوں سے مدد ملی ہےکہ ایران مذاکرات کی میز پر آگیا ہے- اوباما نے یہ بھی اعتراف کیا کہ ایران نے اپنی تمام ذمہ داریوں کو پورا کیا ہے جس کے عوض عالمی برادری بعض پابندیاں ہٹادیے گی- ادھر اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا ہے کہ مسائل کے حل، تلاش کرلئے گئے ہیں اور اب حتمی معاہدے کا مسودہ تیار کیا جائے گا- قابل ذکر رہے کہ ایران اور پانچ جمع ایک گروپ کے ماہرین تین مہینوں میں حتمی معاہدے کا مسودہ تیار کریں گے جس کے بعد اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے مںظوری دی جائے گی- لوزان میں اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف اور یورپی یونین میں خارجہ پالیسی شعبے کی سربراہ فیڈریکاموگرینی نے مشترکہ بیان پڑھ کر سنایا-


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 Oct. 19