Friday - 2018 Oct. 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 72214
Published : 4/4/2015 18:59

ایرانی قوم کا اپنے قومی مفادات کے راستے پر ایک اور قدم

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے کہا ہے کہ ملت ایران نے استقامت و پائیداری کے ساتھ اپنے اہداف اور قومی مفادات کے حصول کے لیے ایک اور قدم اٹھایا ہے- صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے جمعہ کے روز ایران کے نیوز ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے لوزان میں ایٹمی مذاکرات اور مشترکہ بیان کی طرف اشارہ کیا اور اسے ملت ایران کے لیے ایک تاریخی واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام نے استقامت و پائیداری کے ساتھ اپنے قومی مفادات اور اہداف و مقاصد کے حصول کے راستے پر ایک اور قدم بڑھایا ہے- انھوں نے ایران کی حکومت کو داخلی قوانین اور قومی مفادات کے تجت اپنے وعدوں کی پابند ہے، مزید کہا کہ ایٹمی حقوق کا تحفظ، پابندیوں کا مکمل خاتمہ اور دنیا کے ساتھ تعمیری تعاون ایران کی حکومت کے لیے اہمیت رکھتا ہے- صدر نے مزید کہا کہ گروپ پانچ جمع ایک نے ایٹمی ٹیکنالوجی اور یورینیم کی افزودگی کے ایران کے حق کو تسلیم کیا ہے اور یہ بات قبول کی ہے کہ ایران کا ایٹمی پروگرام پرامن ہے- ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا کہ ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے مشترکہ بیان کے مطابق حتمی سمجھوتے پر عمل درآمد کے پہلے ہی دن مالی، اقتصادی اور بینکاری کے شعبوں میں ایران پر عائد پابندیاں اور قراردادیں کالعدم ہو جائیں گی اور ایٹمی امور اور دیگر شعبوں میں دنیا کے ساتھ ایران کے ساتھ تعاون میں ایک نیا باب کھلے گا- صدر مملکت نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ آج کی دنیا میں ملکوں کو دھمکی، ان پر دباؤ اور پابندیاں اپنی افادیت کھو چکی ہیں، مزید کہا کہ سب کو دونوں فریقوں کی جیت پر مبنی سمجھوتے اور تعاون کے لیے کوشش کرنی چاہیے- انھوں نے ان بیانات کی تردید کرتے ہوئے کہ پابندیوں نے ایران کو مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور کیا ہے، کہا کہ دباؤ اور پابندیوں کے سامنے ملت ایران کے نہ جھکنے کی وجہ سے مقابل فریق ایران کے ساتھ مذاکرات پر مجبور ہوا ہے- ڈاکٹر حسن روحانی نے یہ بات بیان کرتے ہوئے کہ ایٹمی مذاکرات میں ہم نے دنیا سے وعدہ کیا ہے اور ہم قومی مفادات کے تحت اپنے وعدوں پر قائم ہیں، مزید کہا کہ ایران کا اپنے وعدوں پر قائم رہنا مقابل فریق کے اپنے وعدوں پر عمل کرنے سے مشروط ہے اور فریقین کے درمیان معاہدوں پر عمل درآمد متوازن اور قدم بہ قدم ہو گا- صدر مملکت نے اسی طرح ایران کی ایٹمی مذاکراتی ٹیم کی تعریف کرتے ہوئے گروپ پانچ جمع ایک کے ساتھ ایران کے مذاکرات کو دنیا کے ممالک کے ساتھ تعاون کے لیے پہلا قدم قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ ایران کا تعاون صرف ایٹمی مسئلے میں ہی نہیں ہے بلکہ آج کی دنیا کے ساتھ تمام شعبوں میں تعمیری تعاون کے لیے ہو گا-


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 Oct. 19