Tuesday - 2018 Oct. 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 72382
Published : 6/4/2015 21:22

یمن کا بحران: پاکستان میں پارلیمنٹ کا اجلاس

یمن کی صورتحال اور فوج بھیجنے کی سعودی درخواست پر غور کے لئے پاکستانی پارلیمنٹ کامشترکہ اجلاس اسلام آباد میں شروع ہوگیا ہے جس کے تین روز تک جاری رہنے کی توقع ہے۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق اجلاس میں اس بات پر بحث کی جارہی ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم میاں نواز شریف سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں انقلابی قوتوں کے خلاف جنگ کے لئے پاکستانی فوج روانہ کریں گے یا نہیں۔حال ہی میں سعودی عرب کا دورہ کرنے والے پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے پارلیمنٹ کو بتایا ہے کہ سعودی عرب نے پاکستان سے لڑاکا طیارے اور بحری جہاز کے علاوہ بری فوج بھی مانگی ہے۔انہوں نے کہا کہ فوج بھیجنے یا نہ بھیجنے کا فیصلہ پارلیمنٹ کو کرنا ہے۔ خواجہ اصف کا کہنا تھا کہ پاکستان کی فوج وہ واحد فوج ہے جو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں برسرِ پیکار ہے ،لیکن ہماری مدد کے لیے کوئی نہیں آیا اور پاکستان اپنے وسائل پر یہ جنگ لڑ رہا ہے۔ پاکستانی پارلیمنٹ کا اجلاس کچھ دیر کے وقفے کے بعد شام پانچ بجے پھر شروع ہونے کی توقع ہے۔ ادھر پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر اعتزاز احسن نے حکومت پاکستان سے اپنا موقف واضح کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ قومی اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ حکومت اگر فوج بھیجنا چاہتی ہے تو اس کا مینڈیٹ کیا ہو گا۔ انہوں کہا کہ حکومت پاکستان کو پہلے اپنا موقف بتانا چاہیے کہ وہ یمن میں فوج بھیجنے کے حق میں ہے کہ نہیں۔ واضح رہے کہ حکومت بار بار یہ کہہ چکی ہے کہ ابھی تک یمن میں فوج بھیجنے کا فیصلہ نہیں کیا گیا تاہم اگر سعودی عرب کی سالمیت کو خطرات لاحق ہوئے تو اس کا دفاع کیا جائے گا۔ جبکہ سعودی سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ سعودی اتحادی فورسز میں پاکستان سمیت دس سے زائد ممالک شامل ہیں۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Oct. 16