Saturday - 2018 Oct. 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 72583
Published : 9/4/2015 21:16

جوہری پروگرام اور یمن کے حالات، رہبر انقلاب اسلامی کا خطاب

رہبر انقلاب اسلامی آیۃ اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے خواتین، شعرا اور خطباء و ذاکرین سے اپنے خطاب میں دختر رسول حضرت فاطمہ زہرا(س) کی ولات با سعادت کی مناسبت سے مبارک باد پیش کرتے ہوئے جوہری مذاکرات اور یمن کے حالات کے بارے میں اہم نکات بیان فرمائے- رہبر انقلاب اسلامی آیۃ اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے تاکید کے ساتھ فرمایا کہ حالیہ جوہری مذاکرات کے بارے میں ان کی جانب سے موقف اختیار نہ کئے جانے کی وجہ، یہ رہی ہے کہ ایرانی حکام اور جوہری امور کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے اس مرحلے میں، کوئی سمجھوتہ نہیں ہوا ہے اور عملدرآمد کی بھی ابھی کوئی ضمانت نہی ہے- آپ نے فرمایا کہ ابتک نہ تو سمجھوتے کی کوئی بنیاد پڑی ہے اور نہ مذاکرات ایسے ہوئے ہیں جو حتمی سمجھوتے پر منتج ہوں اور نہ سمجھوتے کی بنیاد کی ہی کوئی ضمانت ہے یہاں تک کہ اس بات کی بھی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ یہ مذاکرات، سمجھوتے پر ختم ہوں گے- آیۃ اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے اپنے اس خطاب میں مقابل فریق کو عالمی برادری قرار دیئے جانے پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے، فرمایا کہ ایرانی قوم کے مقابل فریق، جو خلاف ورزی کرتے رہے ہیں، وہ، عالمی برادری نہیں بلکہ امریکہ اور تین یورپی ممالک ہیں- آپ نے فرمایا کہ عالمی برادری، وہ ڈیڑھ سو ممالک ہیں کہ جن کے سربراہوں اور اعلی حکام نے چند سال قبل ناوابستہ تحریک کے تہران سربراہی اجلاس میں شرکت کی اور یہ کہنا کہ ایران کے مقابلے میں عالمی برادری ہے اور ہم پر اعتماد کیا جائے، بلا وجہ کی بات ہے- رہبر انقلاب اسلامی آیۃ اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا کہ پابندیوں کا خاتمہ، اگر کسی نئے عمل سے مربوط قرار دیا جاتا ہے تو مذاکرات کی بنیاد کا کوئی مفہوم نہیں رہ جائے گا، اسلئے مذاکرات کا اصل مقصد، پابندیوں کا خاتمہ ہے اور ان پابندیوں کا مکمل خاتمہ بھی سمجھوتہ طے پانے والے دن ہی ہونا چاہیئے- رہبر انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب میں یمن کے حالات کی طرف بھی اشارہ کیا اور تاکید کے ساتھ فرمایا کہ سعودیوں نے یمن کو جارحیت کا نشانہ بناکر خطا اور غلطی ہے آپ نے فرمایا سعودیوں نے اپنے اس اقدام سے علاقے میں ایک بری بدعت قائم کی ہے- آپ نے یمنی قوم کے خلاف عمل میں لائے جانے والے اقدام کو جرم، نسل کشی قرار دیا اور فرمایا کہ سعودیوں کا یہ اقدام عالمی سطح پر قانونی کاروائی کئے جانے کا متقاضی ہے- آپ نے اور فرمایا کہ بچوں کا قتل عام، رہائشی مکانات کی مسماری، اور کسی ملک کی بنیادی تنصیبات اور قومی سرمائے کو تباہ و برباد کرنا، ایک بہت بڑا جرم ہے- آیۃ اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے تاکید کی کہ یقینا اس مسئلے میں سعودیوں کو نقصان اٹھانا پڑےگا اور انھیں ہرگز اپنے مذموم مقاصد میں کامیابی نہیں مل سکتی- رہبر انقلاب اسلامی آیۃ اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے سعودیوں کی شکست کی وجہ بتاتے ہوئے فرمایا کہ سعودیوں کی شکست کی وجہ، بالکل واضح ہے اسلئے کہ صیہونیوں کی فوجی طاقت، سعودیوں کی توانائی سے، کئی گنا زیادہ ہے اور غزہ ایک چھوٹا سا علاقہ تھا مگر جب صیہونی کامیابی حاصل نہ کرسکے تو یمن تو ایک بڑا اور وسیع ملک ہے جہاں کی آبادی بھی کروڑوں میں ہے-


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 Oct. 20