Sunday - 2018 Dec 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 72588
Published : 9/4/2015 21:29

روس ایران کو ہتھیار فروخت کرنے کا خواہاں

لوزان سمجھوتے کے بعد روس کے حکام ایران کو فوجی ساز و سامان فروخت کرنے کے لئے موقع کی تلاش میں ہیں- ہمارے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق مانیٹر جریدے نے لوزان سمجھوتے کے بعد سے ایران کو روسی ہتھیاروں کی فروخت کے بارے میں ایک تجزیاتی مقالہ شائع کیا ہے- مقالہ نگار کے مطابق لوزان سمجھوتے میں جس ایک سوال کا جواب نہیں دیا گیا ہے اس کا تعلق ایران کے ساتھ روس کے اسلحے کی فروخت اور زمین سے فضا میں مار کرنے والے جدید ترین میزائلوں کی فروخت کا معاملہ ہے- جون میں روس اور ایران کے فوجی معاہدے کے ختم ہونے کا وقت قریب آنے کے پیش نظر ایٹمی مفاہمیت کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان اس فوجی سمجھوتے کا جاری رہنا مشکل نظر آتا ہے اور روسی حکام اپنے فوجی ہتھیار ایران کے ہاتھ فروخت کرنے کے لئے موقع کی تلاش میں ہیں-سنہ دو ہزار سات میں روس اور ایران کے درمیان ایس تین میزائلوں کی فروخت کے اہم ترین معاہدے پر دستخط کئے گئے تھے جس کے خلاف امریکہ اور اسرائیل نے شدید رد عمل ظاہر کیا تھا- سنہ دو ہزار دس میں روس کے اس وقت کے صدر دیمتری مدودوف نے ایران کے ہاتھ ان میزائلوں کی فروخت روک دی تھی-اسی طرح جون دو ہزار دس میں منظور کی جانے والی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی انیس سو انتیس کی قرارداد کے مطابق ایران کے ہاتھ ٹینکوں، بکتر بندگاڑیوں، ہوائی جہازوں، ہیلی کاپٹروں اور میزائیل سسٹم سمیت ہر طرح کے جنگی ساز و سامان فروخت کئے جانے پر پابندی عائد کر دی گئی- یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب لوزان سمجھوتے کی بناء پر ایران کے ایٹمی پروگرام سے متعلق لگائی جانے والی تمام پابندیاں اٹھا لی جائیں گی لیکن ایران اور روس کے درمیان میزائلوں کی فروخت سے متعلق طے پانے والا معاہدہ غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے-


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 Dec 16