Thursday - 2018 August 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 74438
Published : 11/5/2015 20:32

ملایشیا: سعودی دعوے کی سختی سے تردید

ملایشیا نے سعودی عرب کے اس دعوے کی سختی سے تردید کی ہے کہ یمن کے خلاف جارحیت میں شمولیت کے لئے ملایشیا کا پہلا فوجی دستہ ریاض پہنچ گیا ہے۔ ملایشیا نے پیر کے روز اعلان کیا ہے کہ ملایشیا کا یہ فوجی دستہ، یمن کے خلاف جارحیت میں شمولیت کے لئے نہیں بلکہ غیر فوجی امداد کے لئے بھیجا گیا ہے- ملایشیا کے وزیر دفاع ہشام الدین حسین نے اپنے ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ ملایشیا کا فوجی دستہ، یمن کے ان شہریوں کی مدد کے لئے گیا ہے جو جنگ سے فرار ہونے کی بناء پر بے گھر ہوئے ہیں۔ ملایشیا کے وزیر دفاع نے یہ بھی لکھا ہے کہ یمن میں ملایشیا کے طلباء بھی موجود ہیں جن کی مدد کرنا ملایشیا کا فرض بنتا ہے. واضح رہے کہ سعودی عرب کی سرکاری نیوز ایجنسی واس نے اتوار کے روز اپنی رپورٹ میں دعوی کیا ہے کہ یمن پر جارحیت کے دوسرے مرحلے میں شرکت کے لئے ملایشیا کا پہلا فوجی دستہ سعودی عرب پہنچ گیا ہے اور ملایشیا کے یہ فوجی، سعودی عرب کی فضائیہ کے ایک اڈے میں موجود ہیں- العربیہ نیوز چینل نے بھی ایک رپورٹ میں اعلان کیا ہے کہ ملایشیا کی فضائیہ کی ایک ٹیم یمن کے خلاف حملوں میں شرکت کے لئے سعودی عرب پہنچ گئی ہے جبکہ اس قسم کی رپورٹیں، ملایشیا کے عوام اور سوشل میڈیا پر ان کی جانب سے ردعمل کے اظہار کا باعث بنی ہیں- ملایشیا کے عوام نے اس سلسلے میں اپنی ناراضگی اور غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے صراحت کے ساتھ اعلان کیا ہے کہ وہ یمن کے خلاف غیر مساوی جنگ میں ملایشیا کی فوج کی شمولیت کے خلاف ہیں اور حکومت کو چاہیئے کہ ملایشیا کے فوجیوں کو فوری طور پر واپس بلائے- اس سے قبل ملایشیا کے عوام نے کوالالامپور میں سعودی عرب کے سفارت خانے کے سامنے احتجاجی مظاہرے میں یمن کے خلاف سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کےحملوں کی مذمت کی اور عام شہریوں پر سعودی اتحاد کے حملوں کو دہشتگردی  قرار دیا۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 August 16