Saturday - 2018 Oct. 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 74445
Published : 11/5/2015 20:51

نیپال: برفباری کی وجہ سے امداد ی کاروائیاں متاثر

نیپال میں برفباری اور زمین کھسکنے کے واقعات کی بناء پر زلزلے سے متاثرہ لوگوں کی امداد کے لئے کاروائی کا عمل تعطل کا شکار ہوگیا ہے- ارنا کی رپورٹ کے مطابق نیپال میں گذشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران برفانی تودے گرنے اور زمین کھسکنے کے واقعات کی بناء پر ایسے علاقوں میں کاروائی کا عمل ایکبار پھر مشکلات سے دوچار ہوگیا ہے جہاں امدادی کاروائیوں کی فوری طور پر ضرورت ہے- البتہ زلزلے سے متاثرہ بیشتر علاقوں میں حکومت نیپال کی امدادی کاروائیاں بدستور جاری ہیں- نیپال کی کرائسز منیجمنٹ کمیٹی کے ڈپٹی چیئرمین "گجیندر کمار" کے مطابق نیپال کی فوج نے ایک علاقے سے نو کوہ پیماؤں سمیت نوّے افراد کی لاشیں برآمد کی ہیں- امدادی ٹیم کے حکام کا کہنا ہے کہ برفانی تودے گرنے سے مختلف علاقوں میں امدادی کاروائیاں جاری رکھنا مشکل ہوگیا ہے اور اس وقت بھی مختلف علاقوں میں ایک سو بیاسی شہریوں، بیس مزدوروں، اسّی سیاّحوں، چالیس گائیڈوں اور دس فوجی اہلکاروں کا کچھ پتہ نہیں ہے- اب تک برفانی علاقوں سے ڈھائی سو کوہ پیماؤں کی لاشیں نکالی جاچکی ہیں- نیپالی حکام کے مطابق جس وقت برفانی تودے گرے اس وقت ہیمالیہ کے دامن میں چار سو پچاس کیمپوں میں تقریبا ایک ہزار کوہ پیما موجود تھے- زلزلے سے متاثرہ قصبوں اور دیہاتوں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ زمین کھسکنے کے واقعات میں دسیوں افراد زندہ دفن ہوگئے ہیں اور راستے خراب ہونے کی بناء پر امدادی کاروائیوں میں کافی مسائل و مشکلات کا سامنا ہے- کراجا نامی ایک دیہات کے آٹھ سو پچاسی گھروں میں سے صرف تین گھر باقی بچے ہیں- امدادی ٹمیوں کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ دور افتادہ علاقوں میں ایک ہزارسے زائد افراد، امدادی ٹیموں کے منتظر ہیں- یہ ایسی حالت میں ہے کہ اقوام متحدہ کے بچوں کے ادارے نے اعلان کیا ہے کہ نیپال میں آنے والے خوفناک زلزلے میں لگ بھگ پچیس ہزار اسکول، مکمل طور پر تباہ ہوگئے ہیں-


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 Oct. 20