Tuesday - 2018 August 14
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 74487
Published : 12/5/2015 20:12

فائر بندی کے باوجود آل سعود کی وحشیانہ جارحیت

منگل کے روز سے شروع ہونے والی پانچ روزہ فائر بندی کے موقع پر سعودی عرب نے یمن کے مختلف علاقوں کو اپنی وحشیانہ جارحیت کا نشانہ بنایا ہے- یمن سے موصولہ رپورٹ کے مطابق سعودی جنگی طیاروں نے یمن کے مختلف علاقوں پر اپنے وحشیانہ حملے جاری رکھتے ہوئے پیر کے روز یمن کے مختلف صوبوں منجملہ حجہ، صعدہ، تعز اور مآرب کے مختلف علاقوں پر شدید بمباری کی اور صرف دو صوبوں حجہ اور صعدہ کے نہتے عوام پر ڈیڑھ سو سے زیادہ بم برسائے- یمنی ذرائع نے رپورٹ دی ہے کہ سعودی عرب کے جنگی طیاروں نے صوبے صعدہ میں واقع علاقے خمیس مران میں ایک طبی مرکز کو اپنے حملے کا نشانہ بنایا ہے- یمن کے مختلف علاقوں پر سعودی حکومت کی وحشیانہ جارحیت، ایسی حالت میں جاری ہے کہ اس ملک پر چھبّیس مارچ سے شروع ہونے والے بھیانک حملوں میں تین ہزار سے زائد بے گناہ عام شہری شہید اور ہزاروں دیگر زخمی ہوچکے ہیں- ادھر سعودی شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ایک بیان میں دعوی کیا ہے کہ یمن کے مختلف علاقوں پر شدید حملوں کا مقصد، اس ملک کا دفاع کرنا ہے اور بقول ان کے یمن کے خلاف فوجی اقدام کے زریعے علاقے میں سازش کے اڈّے کے قیام کو روک دیا گیا ہے- سعودی شاہ نے اسی طرح یہ دعوی بھی کیا ہے کہ ریاض، ایک ایسے گروہ کا مقابلہ کرنے کی غرض سے یمن کے خلاف فوجی کاروائی پر مجبور ہوا ہے، جو اغیار کی حمایت سے پورے علاقے پر تسلط جمانے کے درپے تھا اور پڑوسی ملکوں خاص طور سے سعودی عرب کے لئے خطرہ بنا ہوا تھا- یمن کے خلاف سعودی جارحیت پر، یمن کی عوامی انقلابی تحریک انصار اللہ اور یمنی قبائل نے اپنے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے- شمالی یمن کے صوبے عمران کی ایک معروف با اثر شخصیت "شیخ علی سنان الغولی" نے اتوار کے روز تاکید کے ساتھ کہا ہے کہ یمن کے عوام اور قبائل، اب اس سے زیادہ سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی جارحیت اور اس کی جانب سے جاری محاصرے کو برداشت نہیں کریں گے- دوسری جانب یمن کے سابق صدر علی عبد اللہ صالج نے بھی اتوار کے روز" الیمن الیوم" ٹی وی چینل کے ذریعے اپنے ایک اہم خطاب میں یمن پر سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے حملوں کو بزدلانہ جارحیت قرار دیا اور تاکید کے ساتھ کہا کہ سعودی عرب میں اگر جرات ہے تو یمن کے خلاف زمینی جنگ شروع کرے تاکہ اسے یادگار سبق سکھایا جاسکے- علی عبد اللہ صالح نے اسی طرح کہا کہ اب تک وہ یمن کی عوامی انقلابی تحریک سے، جڑے ہوئے نہیں تھے مگر اب وہ اعلان کرتے ہیں کہ یمن کے عوام اور تمام خیرخواہ سیاسی گروہ، ہر اس شخص اور تحریک کے ساتھ ہیں جو سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی وحشیانہ جارحیت کے مقابلے میں یمن کے قومی مفادات کا دفاع کر رہی ہے- قابل ذکر ہے کہ یمن کے مختلف علاقوں پر آل سعود اور اس کے اتحادیوں کی وحشیانہ جارحیت، ایسی حالت میں جاری ہے کہ سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے گذشتہ جمعے کو اعلان کیا تھا کہ منگل کے روز سے یمن پر ہوائی حملے، پانچ روز کے لئے بند کردیئے جائیں گے-


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 August 14