Thursday - 2018 Nov 15
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 75765
Published : 1/6/2015 21:45

شام میں پراکسی وار کے خاتمے کے کوئی آثار نہیں

شام کے میدان جنگ میں آئے دن وسعت آرہی ہے اور کوئی بھی گروپ، مفاہمت آمیز حل کی بات نہیں کر رہا ہے- دمشق سے رشیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق جس قدر تکفیری دہشتگردوں کا دائرہ عمل بڑھتا جارہا ہے مبصرین یہ سوال کر رہے ہیں کہ مستقبل میں دہشت گردوں کے زیر قبضہ علاقوں کا کیا ہوگا- یاد رہے کہ شام کے شمال اور مشرق میں وسیع علاقوں پر تکفیری دہشت گردوں کا قبضہ ہے- داعش نے حلب کے مشرقی اور الحسکہ کے شمالی مضافات نیز الرقہ کے بعض دیہی علاقوں سے پسپائی اختیار کرلی ہے تاہم حلب کے شمال میں جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پیش قدمی بھی کی ہے- شام کی پارلیمنٹ کے رکن عبود الشواخ نے کہا ہے کہ تکفیری گروہ، صوبہ حسکہ میں داخل ہونا چاہتے ہیں لیکن اس صوبے کے عوام نے استقامت کا مظاہرہ کرکے نہ صرف دہشت گردوں کی پیش قدمی روک دی ہے بلکہ انہیں شدید نقصان بھی پہنچایا ہے- انہوں نے کہا کہ یہ کامیابیاں شام کی فوج اور عوام کی استقامت اور رضاکار نوجوانوں کی ہمت سے حاصل ہوئی ہیں- اس رپورٹ میں آیا ہے کہ داعش گروہ، حسکہ کے مضافات میں ہونے والی جھڑپوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حسکہ میں داخل ہونا چاہتا ہے لیکن فوج اور عوام کی استقامت کی وجہ سے وہ اس صوبے میں دا‏خل نہیں ہو سکا ہے- واضح رہے کہ شام کی فوج اور عوامی رضاکاروں کو حسکہ کے شمالی علاقے میں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں اور انہوں نے دہشت گردوں کو ناکام بنا دیا ہے- اس رپورٹ میں آیا ہے کہ شام میں جاری جنگ اور دہشت گردانہ گروہوں کی مسلسل حمایت نیز بدلتے ہوئے حالات کی بنا پر شام کے بارے میں فی الحال قیاس آرائیوں کا سلسلہ جاری رہے گا اور شام کی صورتحال کے بارے میں کوئی قطعی رائے قائم نہیں کی جاسکتی-


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 Nov 15