Tuesday - 2018 Nov 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 77985
Published : 5/7/2015 10:36

ایرانی سفارتکاروں کی صورتحال واضح کی جائے

اسلامی جمہوریہ ایران نے صیہونی حکومت کے ہاتھوں اغوا کئے جانے والے چار ایرانی سفارت کاروں کی صورت حال واضح کئے جانے کا مطالبہ کیا ہے- ارنا کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ نے ہفتے کے روز ایک بیان جاری کرکے اقوام متحدہ اور عالمی ریڈکراس سمیت مختلف بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صیہونی حکومت کے ہاتھوں لبنان سے اغوا کئے جانے والے چار ایرانی سفارتکاروں کے مسئلے کی تحقیقات کے سلسلے میں ذمہ دارانہ کردار ادا کرے۔ وزارت خارجہ کے بیان میں تینتیس سال قبل لبنان میں صیہونی ایجنٹوں کے ہاتھوں اغوا کئے جانے والے ایرانی سفارت کاروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان سفارت کاروں کا پتہ لگائے جانے سے متعلق ان کے اہل خانہ اور حکومت ایران کے حق پر تاکید کی گئی ہے- ایران کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں اغوا ہونے والے سفارت کاروں کا پتہ لگانے کے لئے گذشتہ برسوں کے دوران لبنان کی حکومت اور بین الاقوامی اداروں کی کوششوں کو سراہتے ہوئے ایک بار پھر اس جرم کے تمام پہلؤوں کا جائزہ لینے کے لئے ایک بین الاقوامی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دیئے جانے کا مطالبہ کیا ہے- ایران کی وزارت خارجہ کے بیان میں امید ظاہر کی گئی ہے کہ اس سلسلے میں انجام پانے والی کوششیں، صیہونی حکومت کی جیلوں میں بند تمام فلسطینی اور غیر فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور لاپتہ ہونے والے افراد بالخصوص اغوا ہونے والے ایرانی سفارت کاروں کی صورتحال واضح ہونے اور مجرم صیہونی عناصر پر مقدمہ چلائے جانے پر منتج ہوں گی- واضح رہے کہ یکم جولائی انیس سو بیاسی کو لبنان کے دارالحکومت بیروت میں صیہونی حکومت کے آلہ کاروں نے تین ایرانی سفارت کاروں احمد متوسلیان، سید محسن موسوی اور تقی رستگار اور ارنا کے نامہ نگار اور کیمرہ مین کاظم اخوان کو طرابلس سے بیروت جاتے ہوئے راستے میں اغوا کرلیا تھا- موجودہ شواہد اور دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ وہ صیہونی حکومت کی قید میں ہیں- گذشتہ تین عشروں سے ان ایرانی سفارت کاروں کی رہائی کے لئے تہران کی جانب سے عمل میں لائے جانے والے اقدامات کے باوجود اب تک ان سفات کاروں کا کچھ پتہ نہیں چل سکا ہے۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Nov 20