Sunday - 2018 Sep 23
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 78700
Published : 14/7/2015 12:42

ویانا مذاکرات آخری مراحل میں، نتیجے کا اعلان متوقع

ویانا میں ایٹمی مذاکرات آخری مراحل میں ہیں۔ ایران اور گروپ پانچ جمع ایک نے پیر کی رات اور منگل کی صبح مذاکرات جاری رکھے تاکہ کسی نتیجے تک پہنچا جا سکے۔ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف، امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور یورپی یونین کے خارجہ پالیسی شعبے کی سربراہ فیڈریکا موگرینی نے منگل کی صبح بھی مذاکرات کئے جس کے بعد ان کے معاونین اور ماہرین نے ایک بار پھر مشترکہ جامع اقدام پروگرام پر گفتگو شروع کی۔ اس کے بعد گروپ پانچ جمع ایک کے ملکوں نے اپنے مواقف میں ہم آہنگی اور اتفاق رائے کے حصول کے لئے اجلاس تشکیل دیا۔ یہ اجلاس بھی کوبورگ ہوٹل میں ہوا۔ اس اجلاس کے بعد ایران کے وزیر خارجہ نے امریکہ، برطانیہ اور جرمنی کے وزرائے خارجہ کے ساتھ ملاقات کی۔ اس ملاقات میں مذاکرات کو کسی نتیجے تک پہنچانے کے سلسلے میں گفتگو ہوئی۔ ادھر روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے یورپی یونین کے خارجہ پالیسی شعبے کی سربراہ فیڈریکا موگرینی کے ساتھ مذاکرات کئے۔ یہ مذاکرات پیر کی رات گئے انجام پائے۔ ان اجلاسوں کے بعد اطلاع ہے کہ ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے وزرائے خارجہ کا ایک اجلاس مقامی وقت کے مطابق منگل کے روز دو پہر سے پہلے ویانا میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں تشکیل پا رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ویانا میں مذاکرات کے مکمل ہونے کے بعد یورپی یونین کے خارجہ پالیسی شعبے کی سربراہ فیڈریکا موگرینی اور ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف صحافیوں کے سامنے مذاکرات کے نتائج کا اعلان کریں گے۔ ادھر ایران کی مذاکراتی ٹیم کے رکن مجید تخت روانچی نے ویانا میں تفصیلی مذاکرات کے اختتام پر کہا ہے کہ آخری مراحل میں جامع مشترکہ اقدام پروگرام پر کام بدستور جاری ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ باقی ماندہ مسائل کا حل کیا جانا ضروری ہے۔ اس سے قبل ایران کے وزیر خارجہ محمد محمد جواد ظریف نے کہا تھا کہ منگل کے دن مذاکرات کو کسی نتیجے پر پہنچائے جانے کا امکان ہے۔ ادھر چین کے وزیر خارجہ وانگ یئی نے، جو ویانا میں ہیں، کہا ہے کہ اس وقت ایک اچھے معاہدے کے لئے حالات ساز گار ہیں۔ چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ چند روز کے مذاکرات کے بعد فریقین مزید نمایاں پیشرفت کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات کے پیش نظر ایران کے ساتھ مذاکرات کرنے والے پانچ جمع ایک گروپ کے رکن ملکوں کا ہدف ایٹمی مذاکرات کی تکمیل ہے۔ واضح رہے کہ دو ہفتوں سے ایران اور گروپ پانچ جمع ایک، ماہرین، نائب وزراء خارجہ اور وزراء خارجہ کی سطح پر مذاکرات کر رہے ہیں اور وہ، ان مذاکرات کو کسی نتیجے تک پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران میں ڈاکٹر حسن روحانی کے برسر اقتدار آنے کے بعد ان کی حکومت نے ایٹمی مسئلے کو حل کرنے کا بیڑا اٹھایا تھا۔ صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے یہ کام دنیا کے ساتھ تعمیری تعاون کے نعرے کے ساتھ شروع کیا۔ ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے رکن ملکوں نے تقریبا دو برس تک مذاکرات کئے جو اب آخری نتیجے کی طرف گامزن ہیں۔ صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے پیر کی رات اپنے ٹوئٹر اکاونٹ پر لکھا تھا کہ ایٹمی معاہدہ، عالمی مطلق العنان طاقتوں کی زور زبردستی، دباؤ اور تسلط پسندی کے خلاف سفارتکاری اور سب کی کامیابی کی منطق کو فتح دلا سکتا ہے۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 Sep 23