Saturday - 2018 july 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 78780
Published : 15/7/2015 11:45

ایٹمی مذاکرات کامیاب، صدر مملکت کی تقریر

صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے ممنکہ ایٹمی سمجھوتے پر عملدرآمد کو فریقین کے درمیان اعتماد سازی کے سلسلے میں بہت اہم اور موثر قرار دیا ہے-
صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے منگل کے دن ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے ایٹمی مذاکرات کے بعد مشترکہ اعلامیہ پڑھے جانے کے بعد کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور بڑی طاقتوں کا ایٹمی سمجھوتہ،کہ جس پر مستقبل میں عملدرآمد کیا جائے گا، اعتماد سازی کی آزمائش کا آغاز ہے- صدر مملکت نے کہا کہ اگر آئندہ مہینوں کے دوران حتمی سمجھوتے پر ٹھیک طرح سے اور مکمل طور پر عملدرآمد ہوا تو اعتماد بحال ہونا شروع ہو جائے گا- صدر مملکت کا مزید کہنا تھا کہ اسلامی جمہوریہ ایران آج پڑھے جانے والے مشترکہ اعلامئے کی پوری نگرانی اور اس پر مکمل طور پر عملدرآمد کی بنیاد پر قدم اٹھائے گا اور اس سلسلے میں وہ ایران کے ساتھ ماضی میں برا رویہ اختیار کرنے والے ممالک پر اعتماد بھی نہیں کرے گا- ڈاکٹر حسن روحانی نے مستقبل میں عملی جامہ پہنائے جانے والے اتفاق رائے پر عملدرآمد کو دو طرفہ قرار دیا اور کہا کہ ایرانی قوم نے تاریخ کے مختلف ادوار میں جب بھی کوئی عہد و پیمان اور معاہدہ کیا تو اس پر عمل بھی کیا- اس لئے فریق مقابل اپنے عہد پر عمل کرے گا تو اسلامی جمہوریہ ایران بھی اپنے وعدوں پر عمل کرے گا- صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے ایرانی قوم کو منطق اور استدلال کی حامل قوم قرار دیا اور کہا کہ آج ویانا میں فریقین جس نتیجے پر پہنچے ہیں اس کا سرچشمہ ایران کا تعاون اور گروپ پانچ جمع ایک کی جانب سے ایران کا احترام کیا جانا ہے اور اگر یہ دونوں امور نہ ہوتے تو مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہ ہوتے- ڈاکٹر حسن روحانی نے مزید کہا کہ ویانا میں پڑھ کر سنائے جانے والے مشترکہ اعلامئے کے مطابق ایران کے چار اہم مقاصد حاصل ہوئے ہیں- صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے ایران کے اندر ایٹمی ٹیکنالوجی کی تقویت، تمام شعبوں میں تمام پابندیوں کے خاتمے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی تمام غیر قانونی قراردادوں کی منسوخی اور ایران کے ایٹمی پروگرام کے اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کے منشور کی ساتویں شق سے خارج ہونے کو وہ چار اہم مقاصد قرار دیا جو اسلامی جمہوریہ ایران نے مشترکہ اعلامئے کی رو سے حاصل کئے ہیں- ڈاکٹر حسن روحانی نے ایران کی پرامن ایٹمی سرگرمیوں کو محدود کرنے پر مبنی فریق مقابل کی کوششوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایٹمی مذاکرات کے بعد پڑھے جانے والے مشترکہ اعلامئے کے مطابق چھ ہزار سے زیادہ سینٹری فیوج مشینیں نطنز اور فردو میں یورینیم کی افزودگی کے لئے باقی رہیں گی اور اراک کے بھاری پانی کا ری ایکٹر بھی سابقہ ماہیت کے ساتھ مکمل کیا جائے گا- صدر مملکت نے کہا کہ دنیا کی بڑی طاقتوں نے آج ایران کی ایٹمی سرگرمیوں کے پرامن ہونے کو تسلیم کر لیا ہے اور کہا ہے کہ وہ جدید اور ایٹمی ٹیکنالوجی کے میدانوں میں ایران کی مدد کریں گی- ڈاکٹر حسن روحانی نے خطے کی اقوام اور ہمسایہ ممالک سے کہا کہ وہ ایرانی قوم کے دشمنوں اور صیہونی حکومت کے جھوٹے پروپیگنڈے میں نہ آئیں اور یہ بات جان لیں کہ ایران کی طاقت ہمیشہ انہی کی طاقت ہے اور خطے کی سلامتی اور استحکام ایران کی سلامتی اور استحکام ہے- صدر مملکت نے اس بات کو بیان کرتے ہوئے کہ سائنس و ٹیکنالوجی میں ایران کی ترقی و پیشرفت ہمسایہ ممالک کے مفاد میں ہے، کہا کہ ایران نے کبھی بھی عام تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تیاری اور خطے کے ممالک پر دباؤ ڈالنے کی کوشش نہیں کی ہے اور نہ ہی آئندہ کبھی کرے گا- ڈاکٹر حسن روحانی نے مزید کہا کہ ایران تمام علاقائی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات میں توسیع کا خواہاں ہے- صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے ایٹمی مذاکراتی ٹیم سمیت مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے والے تمام افراد، اقتصادی ماہرین اور ایٹمی سائنس دانوں کی تعریف کی-


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 july 21