Wed - 2018 Nov 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 79192
Published : 22/7/2015 20:43

چھ ہزار سینٹری فیوج کا کام کرتے رہنا، ایک مثبت پہلو

عالمی امور میں رہبر انقلاب اسلامی کے مشیر ڈاکٹر علی اکبر ولایتی نے چھ ہزار سینٹری فیوج مشینوں کے کام کرتے رہنے کو ایٹمی معاہدے کا ایک مثبت پہلو قرار دیا ہے۔ ڈاکٹر علی اکبر ولایتی نے ایران کے ٹی وی چینل دو کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ معاہدے کے دو فریق ہوتے ہیں اور اس میں ایک فریق کی جانب سے دوسرے فریق کو اپنے مطالبات کی ڈکٹیشن دینے کی بات نہیں ہوتی ہے۔ علی اکبر ولایتی کا مزید کہنا تھا کہ ایٹمی معاہدے میں مثبت اور منفی دونوں طرح کے پہلو موجود ہیں جو کہ ایک فطری چیز ہے۔ عالمی امور میں رہبر انقلاب اسلامی کے مشیر علی اکبر ولایتی نے اس بات کو بیان کرتے ہوئے، کہ ایران کی ایٹمی مذاکراتی ٹیم اس بات کی مدعی نہیں ہے کہ ایٹمی معاہدے میں کوئی نقص نہیں پایا جاتا ہے، کہا کہ چند سال پہلے ہم کو تین عدد سینٹری فیوج اپنے پاس رکھنے کی اجازت بھی نہیں دی جاتی تھی لیکن اب چھ ہزار سینٹری فیوج مشینوں کا کام کرتے رہنا ایک اچھا نتیجہ ہے ہر چند یہ بھی ہمارا مطلوبہ نتیجہ نہیں ہے۔ علی اکبر ولایتی نے سلامتی کونسل کی قرارداد دو ہزار دو سو اکتیس میں تشویشناک موضوعات خصوصا ہتھیاروں اور میزائیلوں سے متعلق پابندیوں کے بارے میں کہا کہ اس سے قبل ایران پر ہتھیاروں کی پابندیاں عائد تھیں پھر بھی تہران نے اپنا کام کیا ہے اور وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار داد کا انتظار نہیں کرتا ہے۔ عالمی امور میں رہبر انقلاب اسلامی کے مشیر علی اکبر ولایتی کا مزید کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کی بنیاد پر ایران سے کہا گیا ہے کہ وہ ایٹمی وارہیڈ لے جانے والے میزائل ڈیزائن نہ کرے۔ علی اکبر ولایتی نے کہا کہ ایران نے کبھی بھی ایسے میزائل ڈیزائن نہیں کئے ہیں۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Nov 21