Saturday - 2018 Nov 17
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 79229
Published : 23/7/2015 20:10

سعودی جارحیت پر خاموشی، بین الاقوامی اداروں پر نکتہ چینی

یمن کے سرگرم انقلابیوں نے مغربی ملکوں کی جانب سے اپنے ملک کے خلاف آل سعود کی جارحیت کی حمایت اور بین الاقوامی اداروں کی خاموشی پر کڑی نکتہ چینی کی ہے- یمن کے ایک انقلابی سرگرم کارکن "حسن المطری" نے بدھ کے روز تہران میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ اب تک یمن میں تین ہزار کے قریب افراد شہید کئے جاچکے ہیں کہ جن میں زیادہ تر عورتیں اور بچے شامل ہیں- المطری نے کلسٹرڈ اور فاسفورس بموں جیسے ممنوعہ ہتھیاروں کے استعتمال کو غیر انسانی اقدام قرار دیا اور کہا کہ سعودی عرب، یمن میں متعدد جنگی جرائم کا مرتکب ہوا ہے اور اس پر مقدمہ چلایا جانا چاہئے- یمن کے اس انقلابی کارکن نے مغربی تمدن کے دعوے کو ایک بڑا جھوٹ قرار دیا اور بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ حکومت آل سعود اور یمن پر حملے میں شریک ملکوں پر مقدمہ چلائے- یمن کے جوانوں کے اتحاد کے سربراہ اور عوامی محاذ کے نمائندے "صادق الشرفی" نے بھی اس پریس کانفرنس میں کہا کہ یمن، علاقے میں اہم اسٹریٹجک پوزیشن کا حامل ملک ہونے کے سبب استعمار کی للچائی نظروں اور توجہ کا مرکز بنا رہا ہے اور یمن کی سابق حکومتیں بھی استعمار اور صیہونی حکومت کی آلہ کار بنی رہی ہیں اور ان کے مفادات کی تکمیل کرتی رہی ہیں- الشرفی نے یمن کے تمام علاقوں میں عوامی دستوں اور فوج کی موجودگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یمنی عوام، جنگ کے خاتمے کے ساتھ ہی ایک خود مختار حکومت تشکیل دینے کے خواہاں ہیں اور ماضی سے زیادہ پختہ عزم و ارادے کے ساتھ علاقے اور عالمی سطح پر اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں- ایران کی میڈیا مہم کی تنظیم کے سربراہ "مسعود بصیری" نے بھی اس اجلاس میں کہا کہ یمن کے مظلوم عوام کا قتل عام، ایسی حالت میں انجام پا رہا ہے کہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے یمنی عوام پر جارحیتوں کے مقابلے میں خاموشی اختیار کر رکھی ہے-


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 Nov 17