Monday - 2019 January 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 79794
Published : 31/7/2015 13:14

ویانا ایٹمی معاہدہ ایک مثالی اور منفرد معاہدہ نہیں ہے: علی اکبر ولایتی

عالمی امور میں رہبر انقلاب اسلامی کے مشیر نے کہا ہے کہ ویانا ایٹمی معاہدہ ایک مثالی اور منفرد معاہدہ نہیں ہے۔
عالمی امور میں رہبر انقلاب اسلامی کے مشیر اور ایران کی تشخیص مصلحت نظام کونسل کے اسٹریٹیجک ریسرچ سینٹر کے سربراہ ڈاکٹر علی اکبر ولایتی نے الجزیرہ ٹی وی کے ساتھ گفتگو کے دوران کہا کہ کسی بھی معاہدے میں فریقین کی سو فیصد توقعات پوری نہیں ہوتی ہیں بنابریں ویانا معاہدہ ایک برا معاہدہ نہیں ہے۔ عالمی امور میں رہبر انقلاب اسلامی کے مشیر نے مزید کہا کہ ویانا میں مذاکرات کاروں کی کوشش تھی کہ سب کے نزدیک قابل قبول مشترکہ اصولوں تک ان کی رسائی ہو جائے اور ویانا ایٹمی معاہدہ اسی بنیاد پر ہوا ہے۔ ڈاکٹر علی اکبر ولایتی کا مزید کہنا تھا کہ ویانا ایٹمی معاہدے کو منظور یا مسترد کرنے کی ذمہ داری ایرانی پارلیمنٹ کی ہے اور ایرانی پارلیمنٹ کو اس سے کوئی سروکار نہیں ہے کہ امریکی کانگریس ایٹمی معاہدے کے بارے میں کیا فیصلہ کرتی ہے۔ عالمی امور میں رہبر انقلاب اسلامی کے مشیر اور ایران کی تشخیص مصلحت نظام کونسل کے اسٹریٹیجک ریسرچ سینٹر کے سربراہ ڈاکٹر علی اکبر ولایتی نے اس بات کو بیان کرتے ہوئے، کہ ایران کی میزائلی اور دفاعی صلاحیت مذاکرات کے ایجنڈے میں شامل نہیں تھی، کہا کہ ایران کو اپنی سرزمین اور عوام کے دفاع کے لئے ہتھیاروں کی تیاری کا پورا حق حاصل ہے اور اس کا امریکا اور دوسرے یورپی ممالک سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ عالمی امور میں رہبر انقلاب اسلامی کے مشیر ڈاکٹر علی اکبر ولایتی نے داخلہ اور خارجہ پالیسی کے حساس مسائل کے بارے میں کہا کہ امریکا کے ساتھ تعلقات جیسے حساس اور اہم داخلی اور خارجی مسائل کے بارے میں رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کا فرمان ہی حرف آخر ہے۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2019 January 21