Friday - 2018 Oct. 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 80037
Published : 3/8/2015 19:49

ایٹمی معاہدہ فریقین کی جیت: صدر مملکت

صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے ویانا ایٹمی معاہدے کو فریقین کی جیت قرار دیا ہے۔ ارنا کی رپورٹ کے مطابق صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے اتوار کی رات ایران کے ٹی وی اور ریڈیو سے لائیو نشر ہونے والے اپنے انٹرویو میں ویانا ایٹمی معاہدے کو فریقین کی جیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے گروپ پانچ کے ساتھ معاہدے میں اپنے تین اہم مقاصد حاصل کر لئے ہیں۔ صدر مملکت نے ایٹمی حقوق کے تسلیم کئے جانے، اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل سات سے ایران کے خارج ہونے اور پابندیوں کے خاتمے کو وہ تین اہداف قرار دیا جو ایران نے گروپ پانچ جمع ایک کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے حاصل کئے ہیں۔ ڈاکٹر حسن روحانی نے فریق مقابل کے اس دعوے کے بارے میں،کہ اس معاہدے کے ذریعے اس نے اسلامی جمہوریہ ایران کو ایٹم بم کی تیاری سے ایک سال دور کر دیا ہے، کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران عام تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تیاری کے درپے نہیں ہے اور یورپ والوں کا دعوی ایک خیال باطل ہے۔ صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے مزید کہا کہ رہبر انقلاب اسلامی نے تاریخی فتوی دیتے ہوئے ایٹمی ہتھیاروں سمیت عام تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تیاری اور ان کو اپنے پاس رکھنے کو حرام قرار دیا ہے۔ ڈاکٹر حسن روحانی نے ماضی میں یورپی ممالک کی جانب سے وعدہ خلافی کئے جانے کے بارے میں کہا کہ ایرانی عوام کو گروپ پانچ جمع ایک میں شامل بعض ممالک پر اعتماد نہیں ہے لیکن اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اگر کسی ملک سے ہمارا اختلاف ہے تو ہم اس کے ساتھ مشترکہ ہدف کے بارے میں مذاکرات نہیں کر سکتے ہیں۔ صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی کا مزید کہنا تھا کہ دنیا کے بارے میں یہ نظریہ بہت حد تک درست نہیں ہے کہ یا تو دنیا کے سامنے جھک جانا چاہئے یا اس کو شکست دینی چاہئے کیونکہ ایک تیسری راستہ بھی موجود ہے جو کہ دنیا کے ساتھ اشتراک عمل سے عبارت ہے۔ ڈاکٹر حسن روحانی نے ویانا ایٹمی معاہدے کے عظیم ثمرات کے بارے میں کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد دو ہزار دو سو اکتیس سے قبل اقوام متحدہ کے نزدیک ایران عالمی امن کے لئے ایک خطرہ شمار ہوتا تھا لیکن اب اس قرارداد کے مطابق ایران ایک ایسا ملک ہے جو پرامن ایٹمی ٹیکنالوجی کے لئے کوشاں ہے۔ صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی کا ویانا ایٹمی معاہدے پر خطے کے ممالک کے رد عمل کے بارے میں کہنا تھا کہ صیہونی حکومت اور خطے کے ایک دو دوسرے ممالک اس معاہدے کی وجہ سے پریشان ہیں لیکن اس خطے اور ہمارے تمام ہمسایہ ممالک کی اقوام اس معاہدے پر خوش ہیں۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 Oct. 19