Tuesday - 2018 Sep 25
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 80192
Published : 5/8/2015 15:16

اسٹریٹجک کونسل: مشترکہ ایکشن پلان کی وضاحت

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے ایران کے خارجہ تعلقات کی اسٹریٹجک کونسل میں جامع مشترکہ ایکشن پلان کے تکنیکی نکات کی وضاحت کی- ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے پیر کے روز ایران کے خارجہ تعلقات کی اسٹریٹجک کونسل کے اجلاس میں کہا کہ گروپ پانچ جمع ایک کے ساتھ ایران کے ایٹمی مذاکرات کا مقصد، ایران کی عزت و احترام اور علمی سرمائے کی حفاظت کرنا نیز ملک کی سلامتی میں خلل پیدا کرنے والے عوامل کو دور کرنا تھا- ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ سلامتی کونسل کی قراردادوں میں مختلف طریقوں سے ایران کی پرامن ایٹمی سرگرمیوں کو عالمی امن و سلامتی کے لئے خطرہ بتایا جا رہا تھا، کہا کہ ضرورت اس بات کی تھی کہ ان قراردادوں سے اسلامی جمہوریہ ایران کے لئے جو خطرات پیدا کئے گئے تھے، وہ ختم کر دی‏ئے جائیں- ایران کے وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ایران کے خلاف دباؤ ڈالنے یا اسے دھمکی دینے کا وہ ماحول اب ختم ہو گیا جو مغرب نے امریکہ کی قیادت میں گذشتہ ایک عشرے سے زیادہ عرصے سے پیدا کر رکھا تھا- محمد جواد ظریف نے مشترکہ جامع ایکشن پلان کو ناکام بنانے کے لئے تشہیراتی مہم چلانے کی غرض سے امریکی انتہاپسندوں اور صیہونی لابی کی جانب سے ایک سو پچاس ملین ڈالر کے بجٹ کی منظوری کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ویانا ایٹمی سمجھوتہ ایرانی عوام کی استقامت اور شہدا کے خون کا مرہون منت ہے- ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ پابندیوں کا وہ ڈھانچہ، جو امریکہ نے سلامتی کونسل کی قراردادوں کی بنیاد پر تیار کر رکھا تھا، وہ ختم ہو گیا اور اسی طرح انیس سو نوے کے عشرے کی مانند جو ممالک ایران کے خلاف امریکی پابندیوں پر عمل درآمد نہیں کر رہے تھے ان کے لئے پابندیوں کی بحالی کا بھی اب کوئی مطلب نہیں رہا- محمد جواد ظریف نے فریق مقابل کی جانب سے ایک رات میں پابندیوں کی بحالی کے دعوے کے بارے میں کہا کہ پابندیوں کی بحالی میں برسوں لگیں گے جبکہ ایران کی واپسی کہیں زیادہ جلدی ہو سکتی ہے- ایران کے وزیر خارجہ نے صراحت کے ساتھ کہا کہ مقابل فریق نے اگر معاہدے کی خلاف ورزی کی تو اسلامی جمہوریہ ایران بھی ماضی کی سطح پر اپنی ایٹمی سرگرمیوں کو دوبارہ شروع کر دے گا- محمد جواد ظریف نے ایران کے مختلف ممالک سے اقتصادی وفود کے دورہ تہران کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ہم ان تبدیلیوں میں عجلت سے متعلق کوئی بہت زیادہ اشتیاق نہیں رکھتے تاہم بڑھتے ہوئے یہ تعلقات، سمجھوتے کی ضمانت ہیں-


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Sep 25