Tuesday - 2018 June 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 80230
Published : 6/8/2015 20:50

ایران میں اہلسنت کی مسجدوں کا فیصد،شیعوں سے زیادہ ہے

امت اسلامی کے درمیان اتحاد ، یکجہتی ، رواداری اور باھمی تعاون کے فروغ کی ضرورت کوآج ہر مسلمان محسوس کر رہا ہے ۔
امت اسلامی کے درمیان اتحاد ، یکجہتی ، رواداری اور باھمی تعاون کے فروغ کی ضرورت کوآج ہر مسلمان محسوس کر رہا ہے ۔ افق گیتی پر رونما ہونے والے حالات اور تیزی کے ساتھ بدلتے ہوئے دنیا کے رنگ ہر مسلمان کے اندر یہ احساس جگا رہے ہیں کہ جہاں مسلمانوں کی بین الاقوامی برادری میں موجودہ ساکھ کو دیکھتے ہوئے قرآن جیسے خزینہ بے بہا کے حقیقی معارف کا اقوام عالم تک پہونچنا ضروری ہے وہیں ایک ایسے قرآنی سماج کی تشکیل بھی ناگزیر ہے جسے امت واحدہ کہا جا سکے ، جہاں مسلمانوں کے مابین آج اتحاد اسلامی تعلیمات کی رو سے ضروری ہے وہیں  وقت کی اہم ضرورت بھی ہے۔ 
ایسے میں مسلمانوں کے لئے ضروری ہے کہ استعمار کے مقصد اور ہدف کو پہچانیں اور ہر نعرہ لگانے سے پہلے اسکی سمت اور جہت کا اندازہ لگانے کے ساتھ یہ جاننے کی کوشش کریں کہ اسکا سرچشمہ کہاں ہے ؟ آج ہر وقت سے زیادہ آپس میں متحد ہونے کی ضرورت ہے اور یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ ہمارے داخلی اختلافات میں کہیں ایسا تو نہیں کہ دشمن کا ہاتھ پنہاں ہو اور ہمیں خبرہی نہ ہو۔ اس لئے اتحاد کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے پر اعتماد ،بھروسہ اور یقین کی ضرورت ہے  ۔ 
بقول علامہ اقبال 
یقیں افراد کا سرمایہ تعمیر ملت ہے
یہی قوت ہے جو صورت گر تقدیر ملت ہے
تہران میں برادران اھلسنت کی مسجد کی شھادت کی افواہ کو اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے کہ یہ صورت گر تقدیر ملت ''یقین'' کو پاش پاش کرنے کی ایک سازش ہے یہ خبر اپنے آپ میں چیخ چیخ کر اپنے جھوٹے ہونے کے ساتھ استعماری سازش کو بیان کر رہی ہے جب کہ سب کو معلوم ہے کی ایران میں اہلسنت حضرات کی مساجد کی کیا صورت حال ہے جس ملک میں سیکڑوں برادران اھلسنت کے مدارس ہوں جس ملک کی یونیورسٹیوں میں شیعوں کے ساتھ ساتھ برادران اھلسنت اپنی اپنی لیاقت کے معیار پر مشغول تعلیم ہوں اور فقہ شیعہ کے ساتھ انکے مذاہب کی فقہ کی تعلیم انہیں دی جا تی ہو ،جسکی پارلیمنٹ میں شیعوں کی طرح برادران اھلسنت اپنی تجاویز و آراء و منصوبے پیش کرنے کا حق رکھتے ہوں ،جس ملک میں اس کے رہبر کی طرف سے اھلسنت کے علاقوں میں نمائندہ خاص موجود ہو جو ملک اتحاد بین المسلمین کا پرچم دار ہو یقینا اس ملک کے سلسلہ میں عام ذہنوں میں شکوک و شبھات پیدا کرنا وہ بھی ایک مسجد کی شھادت کو لیکر استعماری نیرنگ کو بیان کرتا ہے جبکہ ایران میں اگر اھلسنت کی مساجد کا جائزہ لیا جائے تو تقریبا ستر ہزار [۷۰۰۰۰] کل مساجد ہیں جن میں گیارہ [١١] ہزار اھلسنت سے متعلق ہیں ہر پانچ سو افراد پر اھلسنت کے یہاں ایک مسجد ہے جبکہ شیعوں کی بہ نسبت اسی  کی شرح  ساڑھے چار ہزار [٤٥٠٠] لوگوں پر ایک مسجد ہے  فیصد کے حساب سے دیکھا جائے تو ایران میں اھلسنت کی مساجد کی تعداد شیعوں سے کہیں زیادہ ہے۔
اسی تہران میں ١١ عدد کے قریب برادران اھلسنت کی مساجد ہیں جن میں مسجد نسیم ، مسجد النبی ، صادقیہ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
ایسے میں اسلام دشمن عناصر کی جانب سے اگر بکاو میڈیا جھوٹی خبریں گڑھ کر مسلمانوں کے اتحاد کو پامال کرنے کی کوشش کرے اور بعض سادہ لوح افراد اس کا شکار ہو جائیں تو یہ اپنے آپ میں ایک المیہ سے کم نہیں ہے۔
ہم مجمع محققین ہند [INDIAN RESEARCHER’S COUNCIL]  کی جانب سے دنیا میں خاص کر ہندوستانی میڈیا میں اس جھوٹی خبر کے شائع ہونے اور بعض سادہ لوح افراد کی جانب سے دشمن کے ہاتھوں بہانہ دینے کی سخت و شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں 
اور تمام دانشوران و علماء اھلسنت سے اپیل کرتے ہیں کہ اس سلسلہ میں قوم کی صحیح رہنمائی کریں 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 June 19