سه شنبه - 2019 مارس 26
ہندستان میں نمائندہ ولی فقیہ کا دفتر
Languages
Delicious facebook RSS ارسال به دوستان نسخه چاپی  ذخیره خروجی XML خروجی متنی خروجی PDF
کد خبر : 80774
تاریخ انتشار : 16/8/2015 6:2
تعداد بازدید : 22

شام اور عراق میں آٹھ ملین افراد کے سخت مسائل

داعش دہشت گردوں کے حملوں کے بعد شام اور عراق میں اسّی لاکھ افراد کو غذائی اشیا کی قلت اور بھوک کا سامنا ہے-
عراق کی السومریہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق عراق کے ترقیاتی مرکز نے ہفتے کے روز اپنی ایک رپورٹ جاری کی ہے- اس مرکز نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے تخمینوں سے پتہ چلتا ہے کہ عراق اور شام میں داعش کے زیر قبضہ علاقوں میں تقریبا اسّی لاکھ افراد رہتے ہیں جن کی حالت مناسب نہیں ہے- عراق کے ترقیاتی مرکز نے رپورٹ میں کہا ہے کہ داعش دہشت گرد گروہ کے زیر قبضہ علاقوں میں رہنے والے افراد کی زندگی روز بروز بدتر ہوتی جا رہی ہے اور ان میں سے کم سے کم ایک چوتھائی افراد کو انسانی ہمدردی پر مبنی امداد کی ضرورت ہے جبکہ ان کی اصل تعداد اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے- اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دہشت گردوں کی جانب سے حقائق کو ذرائع ابلاغ سے چھپائے جانے کے باعث انسانی ہمدردی پر مبنی امداد اور ضروریات کا تعین کرنا ناممکن ہوگیا ہے کیونکہ ٹیلی فون لائنیں منقطع ہیں اور موبائل فون رکھنے پر پابندی ہے جبکہ انٹرنیٹ کی بھی سخت نگرانی کی جا رہی ہے اور جن لوگوں پر جاسوسی کا الزام ہے انھیں سزائے موت کا حکم سنایا جا چکا ہے- عراق کے ترقیاتی مرکز کی رپورٹ کے مطابق صوبہ الانبار اور نینوا میں داعش کے زیر قبضہ علاقوں میں غذائی اشیا کی شدید قلت ہوتی جا رہی ہے اور ان دونوں صوبوں میں انسانی المیہ رونما ہو سکتا ہے- رپورٹ کے مطابق شمالی عراق کے شہر موصل میں طبی خدمات اور پینے کے پانی کی شدید قلت ہے اور ایندھن کی قیمتوں نیز ٹیکسوں میں اضافے اور سڑکوں کی صفائی ستھرائی جیسے مسائل و مشکلات بڑھتے جا رہے ہیں-


نظر شما



نمایش غیر عمومی
تصویر امنیتی :