دوشنبه - 2019 مارس 25
ہندستان میں نمائندہ ولی فقیہ کا دفتر
Languages
Delicious facebook RSS ارسال به دوستان نسخه چاپی  ذخیره خروجی XML خروجی متنی خروجی PDF
کد خبر : 80872
تاریخ انتشار : 17/8/2015 12:38
تعداد بازدید : 6

میزائل تجربات روکنے کا ایٹمی معاہدے سے کوئی تعلق نہیں

اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ایران کے میزائلی تجربات کا سلسلہ روکنے کا ایٹمی معاہدے سے کوئی تعلق نہیں ہے-
ایران کے نائب وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اتوار کے روز پارلیمنٹ کے قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے اجلاس میں ایٹمی معاہدے کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ ایران کے میزائلی تجربات، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار داد ،بائیس اکتّیس، کے موضوع میں شامل نہیں ہیں، اور یہ تجربات ممکن ہے دوسری وجوہات کی بنا پر روکے گئے ہوں- انھوں نے کہا کہ اس کا ایٹمی معاہدے سے کوئی تعلق نہیں ہے- سید عباس عراقچی نے اقوام متحدہ کی موجودہ قرار داد ،بائیس اکتّیس، کا اس سے قبل جاری ہونے والی قرار داد ،انّیس انتیس، سے موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ یقینا، اس سے پہلے کی قراردادوں میں قرار داد ،بائیس اکتّیس، سے زیادہ شرائط اور پابندیاں رہی ہیں جس کی بنا پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایران کی مذاکراتی ٹیم، پابندیوں کی شدت میں کمی لانے بالفاظ دیگر ایٹمی پروگرام بند کرنے کے بجائے محدود پیمانے پر جاری رکھوانے میں کامیاب رہی ہے- اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ ان تمام باتوں سے قطع نظر، ہتھیاروں پر عائد پابندیاں ختم کرانا، کبھی بھی ایران کی ریڈ لائن نہیں رہا ہے کیونکہ رہبر انقلاب اسلامی، فرما چکے ہیں کہ پابندیاں اٹھائے جانے کے سلسلے میں پہلی ترجیح، اقتصادی اور مالی پابندیوں کو حاصل ہے اور دوسری پابندیاں بھی منطقی و معقول مدت میں ختم ہونی چاہیئیں- سید عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کی وزارت خارجہ کو حکومت کی جانب سے ایٹمی معاہدے کو ایک بل کے طور پر پارلیمنٹ میں پیش کرنے میں کوئی اعتراض نہیں ہے-


نظر شما



نمایش غیر عمومی
تصویر امنیتی :