Wed - 2018 Oct. 17
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 81291
Published : 24/8/2015 7:48

فلسطینی آبادی کو کم کرنا، نئے صیہونی منصوبے کا مقصد

صیہونی حکومت نے فلسطینیوں کی آبادی پر کنٹرول کرنے کے لئے ان کی شادی پر بھی پابندی عائد کردی ہے۔ صیہونی حکومت نے اپنا نسل پرستانہ رویہ جاری رکھتے ہوئے سن انیس سو اڑتالیس کے مقبوضہ علاقوں میں رہائش پذیر فلسطینیوں کے ایک سے زیادہ شادیاں کرنے پر پابندی عائد کردی ہے۔ رپورٹوں کے مطابق، صیہونی وزیر قانون آیلیت شاکید نے کہا ہے کہ یہ قانون تمام فلسطینیوں بالخصوص نقب کے قبیلوں پر نافذ کیا جا رہا ہے۔ اس قانون پر آئندہ ہفتے سے عملدرامد شروع ہوجائے گا جس کے تحت ان مردوں کو سزا دی جائے گی جو ایک سے زیادہ شادی کریں گے۔ اس انتہاپسندانہ قانون کے تحت، ایک سے زیادہ شادی کرنے والے مردوں کو پانچ سال قید کی سزا دی جائے گی اور ان کے بچوں کو سوشل سیکورٹی سے بھی محروم کردیا جائے گا ۔ ان فلسطینیوں اور ان کے اہل خانہ کو تعلیم اور رفاہی مواقع بھی حاصل نہیں ہوں گے۔ صیہونی وزارت قانون کے اعداد و شمار کے مطابق، نقب کے چھتیس فیصد فلسطینی مردوں نے ایک سے زیادہ شادیاں کر رکھی ہیں۔ صیہونی حکومت اس قانوں کو خواتین کے حقوق کے تحفظ کا نام دے رہی ہے۔ ادھر صیہونی پارلیمنٹ کے عرب رکن حنین زعبی نے کہا ہے کہ تل ابیب حکومت جو خواتین کے حقوق کے تحفظ کا دعوی کر رہی ہے، وہی حکومت ہے جس نے فلسطینیوں کے گھروں کو مسمار اور خواتین اور بچوں کو بے گھر اور پناہ گزین ہونے پر مجبور کردیا ہے۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Oct. 17