Wed - 2018 Nov 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 83130
Published : 10/9/2015 11:35

بحرین میں آزادی بیان پر شدید پابندی

بحرین میں انسانی حقوق کے مرکز کے نائب سربراہ نے کہا ہے کہ بحرین میں آزادی بیان اور آزادی اظہار پر ماضی کی نسبت زیادہ پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ براثا خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق بحرین میں انسانی حقوق کے مرکز کے نائب سربراہ یوسف المحافظہ نے کہا ہے کہ بحرین میں سوشل میڈیا کے صارفین کی گرفتاریوں میں اضافہ ہوا ہے جس سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ اس ملک میں آزادی بیان پر اب ماضی سے زیادہ پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں۔ یوسف المحافظہ کا کہنا تھا کہ آئین میں آزادی بیان کی ضمانت دی گئی ہے لیکن اس حق کو پامال کیا جا رہا ہے۔ یوسف المحافظہ کا مزید کہنا تھا کہ آل خلیفہ کے کارندے سوشل میڈیا کے ذریعے تشدد اور انتہا پسندی کو ترویج دے رہے ہیں لیکن ان پر نہ مقدمہ چلایا جاتا ہے اور نہ ہی ان کو سزا دی جاتی ہے لیکن حکومت کے خلاف احتجاج اور اس پر تنقید کرنے والوں کو گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ بحرین میں انسانی حقوق کے مرکز کے نائب سربراہ یوسف المحافظہ کا کہنا تھا کہ بعض یورپی ممالک بحرینی حکومت کے ہاتھ جاسوسی کے آلات فروخت کر کےحکومت کے مخالفین کی گرفتاریوں کے سلسلے میں بحرینی حکومت کی مدد کر رہے ہیں۔ بحرین میں انسانی حقوق کے مرکز کے نائب سربراہ یوسف المحافظہ کا مزید کہنا تھا کہ ٹویٹر کے بہت سے صارفین کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور دوسرے سیاسی قیدیوں کی طرح ان پر بھی تشدد کئے جانے کا خدشہ ہے۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Nov 21