Thursday - 2018 Sep 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 83161
Published : 11/9/2015 12:44

خطے کے مسائل کو سیاسی طریقے سے حل کیا جائے، اسپیکر علی لاریجانی

اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کہا ہے کہ خطے کے تمام مسائل کو سیاسی طریقوں سے حل کیا جا سکتا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر ڈاکٹر علی لاریجانی نے جمعرات کے دن جرمن اخبار فرینکفرٹر الگیمین زیٹنگ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ علاقائی مسائل اجتماعی کوشش سے حل کرنا چاہئے اور فوجی طریقوں کے استعمال کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔
ایران اور سعودی عرب کے تعلقات کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر علی لاریجانی نے کہا کہ ہمارے اور سعودی عرب کے درمیان کوئی رقابت نہیں ہے، سعودی ہمارے بھائی ہیں لیکن ان کو یہ توقع نہیں رکھنی چاہئے کہ ہم خطے میں ان کی غلط پالیسیو کی حمایت کریں گے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے یمن اور بحرین میں ریاض کے فوجی اقدامات کو خطے میں سعودی عرب کی غلطیوں کی مثالیں قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب ان مسائل کو سیاسی طریقے سے بھی حل کر سکتا تھا۔ ڈاکٹر علی لاریجانی نے ایک بار پھر ایران کے اس اصولی موقف کا اعادہ کیا کہ 
خطے کی مشکلات کو سیاسی طریقے سے حل کیا جانا چاہیئے۔انہوں نےیہ بات زور دیکر کہی کہ بحران شام کو اس ملک کے عوام کی رائے کے مطابق کیا جاسکتا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے خبردار کیا کہ شام کی حکومت کی سرنگونی دہشت گردوں کے لئے ایک تحفہ شمار ہوگی۔ ڈاکٹر علی لاریجانی نے کہا کہ خطے میں افغانستان سے لے کر عراق اور شام تک جہاں بھی حالیہ دس برسوں کے دوران جنگ لڑی گئی یا قبضہ کیا گیا، وہاں نئے دہشت گرد گروہ وجود میں آئے اور جنگ کے شکار ملک یمن میں بھی یہی عمل دہرائے جانے کا امکان پایا جاتا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کہا کہ ایران واحد ملک ہے جو پوری سنجیدگی کے ساتھ دشت گردی کا مقابلہ کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض ممالک دہشت گردی کے خلاف جنگ کا دعوی کرتے ہیں لیکن حقیقت میں وہ دہشت گردوں کی مدد کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر علی لاریجانی نے ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان ہونے والے ایٹمی معاہدے کے بارے میں کہا کہ ویانا ایٹمی معاہدہ ایک قابل قبول معاہدہ ہے لیکن امریکی حکومت نے ہمارے ساتھ دشمنی ختم نہیں کی ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ نے ہم پر ایسی پابندیاں مسلط کی ہیں جن کی کوئی منطقی، قانونی اور فنی بنیاد نہیں ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے اسپیکر نے ایران اور امریکہ کے تعلقات میں بہتری کے امکان کے بارے میں کہا کہ اس کا انحصار امریکہ پر ہے اور جیسا کہ رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا ہے کہ ایٹمی معاہدہ اس سلسلے میں ایک کسوٹی کی حیثیت رکھتا ہے۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 Sep 20