Wed - 2018 Nov 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 83163
Published : 11/9/2015 12:53

مشترکہ جامع ایکشن پلان کی مخالفت سیاسی خودکشی ہے: معروف امریکی ماہرقانون

امریکا کےمعروف ماہر قانون جیمزمارک لیس نے مشترکہ جامع ایکشن پلان کی مخالفت پرانتہاپسند امریکی سینٹروں کےاصرارکو سیاسی خودکشی قراردیا ہے-

جیمز مارک لیس نے ارنا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھے شروع سے ہی اس بات میں شک نہیں تھا کہ ایٹمی معاہدے پرعمل درآمد کو روکنے کی ریپبلکن اور اسرائیلی لابی کی سیاسی کوشش بالآخرشکست سے دوچارہوگی-
انہوں نے کہا کہ مشترکہ جامع ایکشن پلان کے مخالفین کی کوشش کو ناکام بنانے کے لئے امریکی ڈیموکریٹ سینیٹروں کی جانب سے ضروری حمایت حاصل ہوجانے کی وجہ سے ریپبلکن کی سیاسی ساکھ مزید خراب ہوگئی ہے۔ حالانکہ اس عرصے میں صیہونی لابی نے جامع مشترکہ ایکشن پلان کی مخالفت میں اربوں ڈالر پانی کی طرح بہائے ہیں۔ 
ان کا کہنا تھا کہ ریپبلکن یہ حقیقت سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ایران کو جھکنے پر مجبور کرنے کے لئے امریکہ کی تمام حکومتوں کی پریشر پالیسی ناکام رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ وائٹ ہاؤس کے حکام نے اس مصنوعی بحران کے حل کے لئے سفارتی طریقہ اختیارکیا۔
انہوں نے کہا کہ جامع مشترکہ ایکشن پلان کے مخالفین آج بھی اسی غفلت اور نادانی کی وجہ سے اپنے موقف پرآنکھیں بند کرکے اصرار کر رہے ہیں جو سیاسی خودکشی کی جانب قدم بڑھانے کے مترادف ہے۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Nov 21