Thursday - 2018 Sep 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 83185
Published : 11/9/2015 20:7

یمن سے متحدہ عرب امارات کے فوجیوں کی پسپائی

متحدہ عرب امارات نے یمن سے اپنے فوجی واپس بلانے اور جنگ سے علیحدہ ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے امارات اکہتر ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق چار ستمبر کو یمن میں دسیوں فوجیوں کی ہلاکت کے بعد متحدہ عرب امارات کی حکومت اپنے ملک کے عوام کے دباؤ کے باعث یمن فوجی بھیجنے کے فیصلے پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہو گئی ہے۔
 اس رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات کا مزید کوئی فوجی یمن نہیں بھیجا جائے گا اور یمن میں موجود فوجی بھی اپنے ملک واپس بلا لیے جائیں گے۔ واضح رہے کہ یمن کی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے اہلکاروں نے چار ستمبر کو صوبہ مارب میں واقع صافر فوجی اڈے پر میزائل حملہ کیا تھا جس میں متحدہ عرب امارات،سعودی عرب اور بحرین کے دسیوں فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔ 
صافر فوجی اڈے میں جارح فوجی تعینات ہیں۔ متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور بحرین نے اپنے ہلاک ہونے والے فوجیوں کی تعداد بالترتیب پینتالیس، دس اور پانچ بتائی ہے لیکن بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حملے میں ان ملکوں کے تین سو فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ 
صافر فوجی اڈے میں تعینات متحدہ عرب امارات کے بعض فوجیوں نے دھماکے کے بعد راہ فرار اختیار کی تو وہ دہشت گرد گروہ القاعدہ کے عناصر کے ہتھے چڑھ گئے۔ اس سے قبل مڈل ایسٹ آئی ویب سائٹ کے نامہ نگار اور انسانی حقوق کے سرگرم کارکن روری دوناقی نے کہا تھا کہ متحدہ عرب امارات کی حکومت ایسی حالت میں اپنے فوجی یمن میں لڑنے کے لئے بھیج رہی ہے کہ جب ان فوجیوں کے اہل خانہ غم و غصے میں مبتلا ہیں اور ان کو اعتراض کرنے کا حق بھی حاصل نہیں ہے۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 Sep 20