سه شنبه - 2019 مارس 19
ہندستان میں نمائندہ ولی فقیہ کا دفتر
Languages
Delicious facebook RSS ارسال به دوستان نسخه چاپی  ذخیره خروجی XML خروجی متنی خروجی PDF
کد خبر : 83596
تاریخ انتشار : 17/9/2015 9:16
تعداد بازدید : 1

علاقے کے بحرانوں کے حل کے لئے انتہاپسندی کا مقابلہ کرنا ضروری ہے: جواد ظریف

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ مشرق وسطی کے بحرانوں کے حل کے لئے تشدد اور انتہاپسندی کا مقابلہ کرنا ضروری ہے-
ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے بدھ کو بنگلادیش کے دارالحکومت ڈھاکا میں اپنے ہم منصب کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ اس وقت شام میں مغرب کی غلطی کے نتائج کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے، تاکید کی کہ اگر اس بحران کے حل کا عزم موجود ہو تو سب سے پہلے انتہا پسندی اور تشدد کا مقابلہ کرنا چاہئے- ایران کے وزیر خارجہ نے شامی مہاجرین کے مسئلے اور اس بارے میں تہران کے موقف کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے شام کے لئے ایندھن اور غذائی اشیا پر مبنی انسان دوستانہ امداد بھیجنے کا سلسلہ بہت پہلے سے شروع کر رکھا ہے- جواد ظریف نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ شام کے بحران کی فوجی راہ حل نہیں ہے، کہا کہ یہ موقف یمن کے سلسلے میں بھی صادق آتا ہے اور افسوس کی بات یہ ہے کہ یمن میں جب بھی متحارب گروہ کسی سمجھوتے کے قریب پہنچتے ہیں تو منصور ہادی کے قریبی افراد، عوام کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں تیز کر دیتے ہیں- جواد ظریف نے ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان ویانا میں ہونے والے ایٹمی سمجھوتے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کے دوران، تہران اپنے موقف پر ڈٹا رہا اور جو پابندیاں ملت ایران پر مسلط کی گئی تھیں وہ کارگر ثابت نہ ہو سکیں- ایران کے وزیر خارجہ نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ مذاکرات میں ایسی راہ حل تلاش کرنے کی کوشش کی گئی کہ جو سب کے مفاد میں ہو، کہا کہ کوئی بھی ایرانی عوام کے فیصلوں پر اثرانداز نہیں ہو سکتا- جواد ظریف نے ایک بار پھر ایران کی پرامن ایٹمی سرگرمیوں پر تاکید کی اور کہا کہ بین الاقوامی نظام میں ایٹمی ہتھیاروں کی کوئی اہمیت اور جگہ نہیں ہے اور ایران نے کبھی بھی اس کے حصول کی نہ تو کوشش کی ہے اور نہ ہی کر رہا ہے-


نظر شما



نمایش غیر عمومی
تصویر امنیتی :