Thursday - 2018 Oct. 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 83884
Published : 22/9/2015 6:48

امریکہ پربے اعتمادی اتنی جلدی دورنہیں ہوگی: صدرمملکت

صدرمملکت ڈاکٹرحسن روحانی نے کہا ہے کہ ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان حالیہ جوہری سمجھوتے نے ایران کے پرامن جوہری پروگرام کے بارے میں بے بنیاد پروپیگنڈے کی قلعی کھول کے رکھ دی ہے۔ امریکہ کے سی بی ایس ٹی کو انٹرویو دیتے ہوئے صدرحسن روحانی نے کہا کہ مذاکرات کے ذریعے ہم یہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کا پروپیگنڈا غلط ہے اورایران ایٹمی توانائی کوصرف پرامن مقاصد کے لئے استعمال کرنا چاہتا ہے۔
صدرمملکت نے کہا کہ ایٹمی سمجھوتے کا حصول انتہائی دشوارضرور تھا لیکن یہ بات خوش آئند ہے کہ تمام فریقوں نے ایٹمی مذاکرات کے دوران صحیح سمت میں قدم آگے بڑھائے ہیں۔
صدرحسن روحانی کا کہنا تھا کہ "مجھے خوشی ہے کہ ہم نے ایٹمی معاملے کے حل کے لیےانتہائی اہم اقدام انجام دیا ہے اوراب ہم آخری مرحلے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔"
ڈاکٹرحسن روحانی نے کہا کہ" ایٹمی سمجھوتے کے نتیجے میں دنیا نے اس بات کو تسلیم کرلیا ہے کہ ایران کو پرامن مقاصد کے ایٹمی سرگرمیاں انجام دینے کا پورا حق حاصل ہے۔"
انہوں نے امید ظاہرکی کہ ایران کی پارلیمنٹ اورنیشنل سیکورٹی کونسل ایٹمی اتفاق رائے کی منظوری دے دے گی۔ 
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدرنے ایٹمی سمجھوتے کو دشمنی ختم کرنے کے راستے پر پہلا قدم قراردیا لیکن اس بات پرزور دیا کہ امریکہ پربےاعتمادی اتنی جلدی دورنہیں ہو گی-
صدر حسن روحانی نے کہا کہ "ایران اورامریکہ کے درمیان مخاصمت کئی عشروں پر محیط ہے، اوریہ فاصلے،اختلاف رائے اور بداعتمادی اتنی جلدی ختم ہونے والی نہیں ہے۔" 
صدرمملکت نے اپنے اس انٹرویوں میں شام کی صورت حال اورمغربی ممالک کی جانب سے شام کے صدربشاراسد کی اقتدار سے علیحدگی پراصرارکے بارے میں کہا کہ جب کوئی حکومت نہیں ہوگی تو دہشت گردوں کا مقابلہ کس طرح کیا جا سکتا ہے؟


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 Oct. 18