Wed - 2018 Nov 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 84424
Published : 3/10/2015 7:58

ایٹمی ہتھیار ختم کرنے کے بجائے ان کےگوداموں کی توسیع

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اپنے عمومی اور خصوصی اجلاسوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمے کے عالمی دن چھبیس ستمبر کی مناسبت سے بدھ کو ایک اجلاس کی میزبانی کی- - اس اجلاس میں ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے ایٹمی ہتھیاروں کے حامل ممالک کی جانب سے اپنے ایٹمی ہتھیاروں کی جدیدکاری اور انھیں اپ گریڈ کرنے پر تنقید کرتے ہوئے ایٹمی ہتھیاروں کے المناک اثرات کا ذکر کیا اور کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں کا کسی بھی طرح کا استعمال انسانیت کے خلاف جرم ہے-

 ایران کے وزیر خارجہ نے اس اجلاس میں ناوابستہ تحریک کے اراکین کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ ایٹمی ہتھیار کے حامل ممالک اپنے ایٹمی ہتھیاروں کو ختم کرنے کے سلسلے میں بین الاقوامی معاہدے کی پابندی کرنے اور ان ہتھیاروں کو ختم کرنے کی راہ پر چلنے کے بجائے ان معاہدوں کی خلاف ورزی اور اپنے ایٹمی گوداموں میں موجود ہتیھاروں کو اپ گریڈ کرنے میں مصروف ہیں-
 اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون نے اس اجلاس کے افتتاحی خطاب میں اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے چھبیس ستمبر کو ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمے کا دن قرار دیئے جانے کی تجویز پیش کرنے پر اس کا شکریہ ادا کیا-
 دوسال قبل اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حسن روحانی نے جنرل اسمبلی کے اڑسٹھویں اجلاس میں ناوابستہ تحریک کے سربراہ کی حیثیت سے ایٹمی ہتھیاروں کے مکمل خاتمے کی تجویز پیش کی تھی- یہ تجویز ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے ، انھیں تیار کرنے ، انھیں توسیع دینے، ان کا ذخیرہ کرنےاور ان کے استعمال کی روک تھام کے لئے ایک جامع بین الاقوامی کنونشن کے انعقاد کے لئے فوری مذاکرات شروع کرنے ، دوہزار اٹھارہ میں ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد کرنے اور چھبیس ستمبر کو ایٹمی ہتھیاروں کے مکمل خاتمے کا عالمی دن قرار دینے پر مشتمل تھی جس کا دنیا کے مختلف ممالک کے وفود ، شخصیتوں اور ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمے کے حامی اداروں نے خیرمقدم کیا اور اسے جنرل اسمبلی میں ایک قرار داد کی شکل میں منظور کیا گیا-
 عالمی برادری چارعشروں سے ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمے کے انتظار میں بیٹھی ہوئی ہے لیکن دنیا کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے کے لئے قدم بہ قدم یا بتدریج اقدام سمیت کوئی بھی روش کارگر ثابت نہیں ہوئی ہے-
 این پی ٹی معاہدے کی چھٹی شق کے مطابق دنیا سے ایٹمی ہتھیاروں کا خاتمہ ہونا چاہئے لیکن اس معاہدے پر عمل درآمد میں بہت سی رکاوٹیں پیش آئی ہیں اورعملی طور پر یہ ٹھپ پڑ گیا ہے اور اس پر عمل درآمد کے بجائے امریکہ ، برطانیہ اور فرانس ان ہتھیاروں کی جدید کاری اور ان کی نئی نسل تیار کرنے میں مصروف ہیں 
اس سال نیویارک میں اپریل کے مہینے میں این پی ٹی معاہدے پر نظرثانی کے لئے منعقدہ کانفرنس میں بھی این پی ٹی معاہدے پر عمل درآمد میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے اور امریکہ نے ایٹمی ہتھیاروں سے پاک مشرق وسطی وجود میں لانے کے لئے بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد کی تجویز کو بھی ویٹو کر دیا-
 غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اسرائیلی حکومت کے پاس دو سو سے چار سو تک ایٹمی وار ہیڈز موجود ہیں جو علاقے کی سلامتی کے لئے خطرہ شمار ہوتے ہیں- عالمی سطح پر ایٹمی خطرات کے سلسلے میں پائی جانے والی تشویش کے پیش نظر، ایٹمی ہتھیاروں کے مکمل خاتمے کا عالمی دن ، ایٹمی ہتھیاروں کے خطرات اور امن عالم کے لئے ایٹمی ترک اسلحہ کی ضرورت کی یاد دلاتا ہے-
جیسا کہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے نیویارک اجلاس میں تاکید کے ساتھ کہا کہ دنیا کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے کے لئے قدم بہ قدم یا بتدریج روشوں کا کارآمد نہ ہونا گذشتہ برسوں میں کھل کر واضح ہو چکا ہے - اسی بنا پر ایک جامع ایٹمی کنونشن تیار کرنے کے لئے مذاکرات کا آغاز جو اس سلسلے میں ایران کی تجویز کا اصلی محور اور ناوابستہ تحریک کے رکن ایک سو بیس ممالک کا مطالبہ ہے، اس مقصد کو عملی جامہ پہنانے کی جانب نیا قدم ہو سکتا ہے-


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Nov 21