Wed - 2018 Nov 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 84425
Published : 3/10/2015 8:1

شام میں امریکہ کے اسٹریٹیجک مسائل اور روس

شام میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر روس کے فضائی حملے ایسے عالم میں شروع ہوئے ہیں کہ داعش کے مقابلے کے لئے امریکہ کی زیرقیادت اتحاد کے گذشتہ کئی مہینوں سے جاری حملوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا ہے- روس جس نے ستمبر کے مہینے سے شام میں اپنے فوجی اقدامات تیز کر دیئے ہیں اپنی پارلیمنٹ ڈوما سے اجازت حاصل کرنے کے بعد بدھ سے شام میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر باقاعدہ فضائی حملے شروع کر دیئے ہیں- 
یہ حملے ایسے وقت میں شروع ہوئے ہیں کہ امریکہ اور اس کے اتحادی داعش کے مقابلے کے بہانے کئی مہینوں سے شام اور عراق میں داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کر رہے ہیں- امریکہ نے داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کے ساتھ ہی ان باغیوں کو ٹریننگ بھی دینا شروع کر دی ہے جنھیں وہ شامی حکومت کے اعتدال پسند مخالفین کا نام دیتا ہے- یہ متضاد اسٹریٹیجی عملی طور پر نہ صرف دہشت گرد گروہوں سے نمٹنے میں موثر ثابت نہیں ہوئی ہے بلکہ بعض مواقع پر اس کا الٹا نتیجہ نکلا ہے- 
داعش کے ٹھکانوں پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے فضائی حملوں کا شام اور عراق میں اس دہشت گرد گروہ کی کارروائیوں پر کوئی اثر نہیں پڑا ہے اور شام میں امریکہ کے حمایت یافتہ باغیوں نے بغیر کسی پس و پیش کے اپنے ہتھیار بھی دہشت گردوں کے حوالے کرنے سے دریغ نہیں کیا ہے- 
چونکہ داعش دہشت گرد گروہ کے مقابلے میں امریکہ کی اسٹریٹیجی، دہشت گردوں کی اچھے اور برے میں تقسیم اور علاقے کے اہم کھلاڑیوں کو نظرانداز کرنے جیسے گہرے تضاد کی حامل تھی اس لئے قابل توجہ کامیابی کی توقع بھی نہیں کی جا سکتی- اس بیچ ایسے عالم میں کہ جب اس کی اسٹریٹیجی کی ناکامی ایک عرصے پہلے ہی واضح ہو چکی تھی، بحران شام میں روس کی بھرپور موجودگی، امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی اسٹریٹیجی کو پہلے سے زیادہ غیرموثر کر سکتی ہے- 
امریکہ اور اس کے اتحادی ، شام میں بحران شروع ہونے کے بعد سے ہی اس ملک کے صدر بشار اسد کی اقتدار سے برطرفی کا مطالبہ کر رہے ہیں- اس کے مقابلے میں ماسکو ، شروع سے ہی شام کی قانونی حکومت کی حمایت کے سلسلے میں پرعزم رہا ہے اور اس نے ثابت کر دیا ہے کہ اس مقصد کے لئے وہ فوجی مرحلے میں بھی داخل ہو سکتا ہے- 
اس وقت واشنگٹن کے پاس شام کے سلسلے میں اپنی اسٹریٹیجی پر نظرثانی کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے اور اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو اسے اپنے مضبوط حریف یعنی ماسکو کے لئے میدان چھوڑنا پڑے گا- البتہ اس اسٹریٹیجی پر نظرثانی بھی آسانی سے ممکن نہیں ہو گی کیونکہ واشنگٹن ایک طرف بحران شام کے سلسلے میں ماسکو کے ساتھ سنگین اور شدید اختلافات رکھتا ہے اور دوسری جانب اسے اپنے علاقائی اتحادیوں کی طرف سے شام کی قانونی حکومت کو برطرف کرنے کے لئے دباؤ کا سامنا ہے- 
اس بیچ جو چیز پہلے سے زیادہ مبہم نظر آتی ہے وہ شام میں بحران کا مستقبل ہے، ایسا بحران کہ جو نہ صرف مشرق وسطی کے علاقے بلکہ بین الاقوامی سلامتی کو بھی متاثر کئے ہوئے ہے-


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Nov 21