Tuesday - 2018 Nov 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 84426
Published : 3/10/2015 8:7

سعودی عرب: شاہ سلمان کے خلاف بغاوت کے آثار

سعودی شہزادوں کی جانب سے سعودی عرب کے نئے بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز کی کارکردگی پر تنقید میں اضافے سے سعودی بادشاہ کے لیے حالات دشوار اور پیچیدہ ہو گئے ہیں۔ بعض سعودی شہزادوں کی جانب سے گزشتہ چند مہینوں کے دوران شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے اقدامات پر تنقید اور اعتراضات میں اضافہ ہوا ہے۔ ان اقدامات میں کسی منصوبہ بندی کے بغیر یمن پر حملہ، شاہ سلمان کی جانب سے اعلی ملکی حکام کی برطرفی، حج کے موقع پر سعودی حکام کی بدانتظامی وغیرہ شامل ہیں۔ سعودی شہزادوں کی جانب سے شاہ سلمان پر تنقید میں اضافے کے بعد مغربی ذرائع نے خبر دی ہے کہ سعودی شہزادے شاہ سلمان کے خلاف بغاوت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ 
اس سلسلے میں برطانیہ کے اخبار ٹائمز نے اپنی بدھ کی اشاعت میں یمن پر سعودی عرب کی فوجی جارحیت اور حالیہ سانحہ منی کے بعد سعودی عرب کے شاہی خاندان میں ناراضگی اور غصہ پائے جانے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ سعودی عرب کے بیمار بادشاہ سلمان کو بعض سعودی شہزادوں کی جانب سے شورش اور بغاوت کا خطرہ ہے۔ 
اس اخبار نے دو سعودی شہزادوں کے حوالے سے کہ جنھوں نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط عائد کی ہے، لکھا ہے کہ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہ گئی  ہے کہ سعودی عرب کے بوڑھے اور بیمار بادشاہ نے ناتوانی کی بنا پر ملکی امور اپنے بیٹے محمد جیسے نالائق افراد کے سپرد کر دیے ہیں اور مختلف میدانوں میں سعودی عرب کی پے در پے ناکامیوں نے شاہ سلمان کے خلاف بغاوت کے لیے راستہ ہموار کر دیا ہے۔ 
سعودی عرب کے بادشاہ کے خلاف شہزادوں کی بغاوت کا راستہ ہموار ہونے کے بارے میں اخبار ٹائمز کی رپورٹ کے صحیح یا غلط ہونے سے قطع نظر سعودی عرب میں شاہ سلمان کے اقتدار سنبھالنےکے بعد پیش آنے والے واقعات، داخلی اور خارجی میدانوں میں سعودی حکومت کی کمزور اور نامناسب کارکردگی کو ظاہر کرتے ہیں۔ شاہ سلمان کے اقتدار میں آنے کے بعد تین ماہ سے بھی کم عرصے میں یمن کے مفرور سابق صدر کو اقتدار میں واپس لانے کے بہانے یمن پر حملہ، سعودی شہزادوں کی وزارت دفاع، وزارت خارجہ اور ولیعہدی جیسے حساس اور روایتی عہدوں سے پے در پے برطرفی، مکہ مکرمہ میں کرین گرنے کے حادثے اور سانحہ منی جیسے واقعات اور حج کے موقع پر انتہائی بدانتظامی، گزشتہ چند ماہ کے دوران سعودی عرب کی کمزور کارکردگی کے صرف چند نمونے ہیں۔ 
ان باتوں اور انیس سو چونسٹھ میں شاہ فیصل کی اپنے بھائی سعود بن عبدالعزیز کے خلاف بغاوت کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ ساٹھ کی دہائی کے واقعات دہرائے جاانے کے بارے میں لگائے جانے والے اندازے اب کسی بھی زمانے سے زیادہ حقیقت سے قریب دکھائی دینے لگے ہیں۔ آل سعود حکومت میں اقتدار کی جنگ ایسے حالات میں چھڑ گئي ہے کہ جب اس حکومت کو چند سال قبل سے اور علاقے کے ممالک میں اسلامی بیداری کی لہر کے بعد داخلی اور خارجی سطح پر وسیع تنقید کا سامنا ہے اور داخلی اعتراضات کے جاری رہنے سے آل سعود خاندان کے اقتدار کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Nov 20