Monday - 2018 April 23
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 85465
Published : 17/10/2015 5:32

داعش کے خلاف حملے موثر واقع ہوئے ہیں، روسی صدر

روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے شام میں داعش اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے خلاف فضائی حملوں کو موثر قرار دیا ہے ۔
روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے جمعے کے دن قزاقستان کے شہر بورو ووی میں سوویت یونین سے آزاد ہونے والے ملکوں کی تنظیم دولت مشترکہ کے سربراہی اجلاس سے خطاب میں اعلان کیا ہے کہ شام میں دہشت گردوں کے خلاف روس کے فضائی حملے کامیاب اور موثر ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ ان حملوں نے شام میں داعش کو کمزور کردیا ہے۔ روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ شام میں داعش کے خلاف جنگ پوری ہما ہنگی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے ، وسطی ایشیا کے دولت مشترکہ کے رکن ملکوں کے سربراہوں سے اپیل کی کہ اس علاقے میں دہشت گردوں کی آمد کو روکنے کے لئے ضروری اقدامات انجام دیں ۔ انھوں نے دولت مشترکہ کے رکن ملکوں سے درخواست کی کہ اپنی سرحدوں پر نگرانی بڑھادیں۔ قابل ذکر ہے کہ روس، قزاقستان، آذربائیجان، ارمنستان، بیلاروس، تاجکستان، قرقیزستان اور مولداویہ روسی دولت مشترکہ کے اراکین ہیں۔ روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے اجلاس سے خطاب میں شام کے تعلق سے امریکا کی پالیسیوں کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے اپنے ایک اور بیان میں شام میں سیاسی اقدامات کے بارے میں روس کی درخواست کو مسترد کرنے کے امریکی اقدام کو غیر تعمیری بتایا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ امریکا نے روس کی درخواست مسترد کرکے ثابت کردیا ہے کہ وہ شام کے بحران کے سیاسی حل میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ یاد رہے کہ روس نے شام کے بحران کے بارے میں مذاکرات کے لئے اپنے وزیراعظم کی قیادت میں ایک وفد امریکا روانہ کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن امریکا نے اس وفد کو قبول کرنے سے انکار کردیا ہے۔ روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ امریکی حکومت نے روس کی دعوت کو مسترد کرکے اس بات کا ثبوت دیا ہے کہ وہ شام کے بحران کے حل کی فکر میں نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ مغرب کی جانب سے شام کے بحران کے حل میں کسی تعاون کی امید نہیں ہے اس کے باجود ہم اعلان کرتے ہیں کہ روس اس سلسلے میں ہر ملک کے ساتھ تعاون کے لئے تیار ہے۔ روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ مغرب والوں نے اپنے غیر قانونی اہداف کے لئے اپنے عرب اتحادیوں کے ساتھ مل کر شام میں بحران اور خانہ جنگی کے حالات پیدا کئے۔ انھوں نے کہا کہ اب مغرب والوں نے دیکھا کہ انہیں دہشت گرد گروہوں میں سے ایک ، داعش خود ان کے مفادات کے لئے خطرہ بن گیا ہے تو اس کے خلافے اتحاد بنایا، لیکن اس اتحاد کے اقدامات غیر موثر رہے ہیں ۔ روسی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی قیادت میں داعش مخالف اتحاد کی اسٹریٹیجی خطرات کی حقیقت اور ماہیت کے مطابق نہیں ہے اس لئے غیر موثر ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ شام کا بحران امریکا کا ہی پیدا کردہ ہے۔ اس نے شام کی قانونی حکومت کو گرانے کے لئے اپنے مغربی اور علاقائی اتحادیوں کے ساتھ مل کر شام میں دہشت گردوں کو بھیجا، انہیں مسلح کیا اور دہشت گردی کو فروغ دیا ہے ۔لیکن اس کے باوجود امریکا اور اس کے اتحاد ی اپنا ہدف حاصل نہ کرسکے۔ امریکا اور اس کے علاقائی اتحادی یہ بات واضح ہوجانے کے بعد بھی کہ دہشت گردوں کی حمایت ، پشت پناہی اور ان کو مسلح کرنا ان کے لئے لاحاصل رہا ہے، اس روش کو ترک کرکے سیاسی راہ حل کا راستہ اختیار کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 April 23