Monday - 2018 Dec 17
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 85559
Published : 18/10/2015 11:48

تہران میں میونخ سیکورٹی کانفرنس کا انعقاد

تہران میں میونخ سیکورٹی کانفرنس کے تمہیدی اجلاس میں مختلف ملکوں کے وزرائےخارجہ نے شرکت کی۔ شام کا بحران، علاقے کی امن و امان کی صورتحال اور علاقائی اور عالمی سیکورٹی میں ایران کا کردار اجلاس کے ایجنڈے میں شامل ہے ۔ اس کانفرنس سے خطاب میں وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے اس خطے میں عدم استحکام اور بحران کے تعلق سے مغرب کے کردار پر سخت تنقید کی ۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے تہران سیکورٹی اجلاس سے خطاب میں کہا کہ ایران نے دنیا پر ثابت کردیا ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام پر امن ہے اور اس کے خلاف الزامات بے بنیاد اور غیر منصفانہ ہیں ۔ انھوں نے ایران کی پرامن ایٹمی سرگرمیوں کے تعلق سے گزشتہ چند برسوں کے دوران ایران پر جو غیر منصفانہ دباؤ ڈالا گیا ، اس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان برسوں کے دوران ایران پر پابندیاں بڑھادی گئیں اور اس کو دھمکیاں بھی دی گئیں لیکن سب بے نتیجہ رہیں اور اب ثابت ہوگیا ہے کہ یہ دھمکیاں اور پابندیاں غلط تھیں کیونکہ ایران کا ایٹمی پروگرام پر امن ہے اور کسی کے لئے بھی خطرہ نہیں ہے۔
وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے مشرق وسطی میں انتہا پسندی اور دہشت گردی میں خطرناک حد تک اضافہ ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ علاقے کے ملکوں کو اس نکتے پر توجہ رکھنی چاہئے کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی سب کے لئے خطرناک ہے ۔ انھوں نے کہا داعش کسی کے لئے بھی سرمایہ اور مفید نہیں ہے۔
انھوں نے یہ سوال اٹھاتے ہوئے کہ کیا ایران نے صدام ، داعش اور القاعدہ کو بنانے میں کوئی کردار ادا کیا ہے؟ کہا کہ اگر ایران ماضی پر نظر ڈالے تو اس کے پاس کہنے کے لئے بہت کچھ ہے۔
انھوں نے علاقے کی بعض حکومتوں کے طرز عمل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ علاقے کی بعض حکومتیں اپنے ذاتی مفاد کی فکر میں ہیں ، لیکن توازن ہر حال میں ضروری ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ نے مغربی ملکوں کے کردار پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مغرب والوں نے طالبان کی موجودگی، صدام کے زوال اور علاقے میں اسلامی بیداری کی لہر سے ناجائز فائدہ اٹھانے اور علاقے میں تواز ن کو اپنے فائدے میں درہم برہم کرنے کی کوشش کی جبکہ خطے میں حتی شام میں بھی عدم استحکام کسی کے بھی فائدے میں نہیں ہے۔
انھوں نے شام کے بحران کے سیاسی حل کی کوششوں کو ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ شام کے بحران کو سیاسی طریقے سے ہی حل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے کیونکہ سیاسی راہ حل ہی شام کے عوام کو قبول ہوگی ۔
وزیرخارجہ محمد جواد ظریف نے علاقے میں بد امنی بڑھنے اور مہاجرین کے بحران میں شدت آنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت یورپ مہاجرین کے بحران سے دوچار ہے ، ان حالات میں شام میں دہشت گردی بند ہونی چاہئے تاکہ شام کے عوام اپنے وطن واپس جاسکیں۔
واضح رہے کہ میونیخ سیکورٹی کانفرنس کا تمہیدی اجلاس، اسلامی جمہوریہ ایران کی وزرات خارجہ میں جاری ہے ۔
تہران میں میونیخ سیکورٹی کانفرنس کے تمہیدی اجلاس میں جرمنی، لبنان، عمان، عراق اور افغانستان کے وزرائے خارجہ، عراقی کردستان کی مقامی انتظامیہ کے سربراہ نچیروان بارزانی، یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی نائب سربراہ ہیلگا اشمد اور شام کے امور میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے خصوصی ایلچی اسٹیفن دی مستورا کے معاون رمزی عزالدین رمزی شریک ہیں ۔
اجلاس کے ایجنڈے میں بحران شام ، ایٹمی معاہدے کے بعد عالمی اور علاقائی سطح پر ایران کے کردار اور علاقے میں سیکورٹی ڈھانچے سے متعلق مسائل کا جائزہ لیا جانا شامل ہے-


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Dec 17