Sunday - 2018 Dec 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 85803
Published : 21/10/2015 14:22

سعودی وزیر خارجہ کے بیان پر ایران کی وزارت خارجہ کا ردعمل

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کی ترجمان نے سعودی وزیرخارجہ کے غیر سفارتی بیان پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے ۔

وزارت خارجہ کی ترجمان مرضیہ افخم نے ہمارے نمائندے سے گفتگو میں کہا  ہے کہ  سعودی عرب کے وزیر خارجہ کو جن کا ملک علاقائی بحران کے حوالے سے فوجی ،سیکورٹی اور انتہا پسندی کے راستے پر گامزن ہے اور جس نے گذشتہ سات ماہ سے یمن کو اپنی جارحیت کا نشانہ بنایا ہوا ہے،خطے میں ایران کے کردار کے بارے میں کسی طرح کی بات کرنے کا کوئی حق نہیں رکھتا ہے۔

مرضیہ افخم کا کہنا ہے ایک ایسے وقت جب عالمی برادری علاقے میں ایران کے تعمیری کردار کو درک کرتے ہوئے مختلف مسائل میں ایران کی شرکت اور اس کے کردار میں اضافے کی خواہاں ہے، بدقسمتی سے سعودی عرب  وہ واحد ملک ہے جو صرف اپنی کامیابی کو اہمیت دیتا ہے اور دوسروں کے کردار کو ختم کرنے کا خواہشمند ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک غیر تعمیری اور تباہ کن رویہ ہے  جس کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوگا۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کی ترجمان  کا مزید کہنا تھا اس بات کی امید تھی کہ ایٹمی مذاکرات کی کامیابی اور خطے کی مشکلات اور بحرانوں کے خاتمے کے لئے وسیع اور  تعمیری گفتگو پر عالمی برادری کی توجہ اور آمادگی اس بات کا باعث بنے گی کہ سعودی عرب اپنی غیر منطقی اور دوسروں کے اشاروں پر بنائی جانے والی پالیسیوں سے کنارہ کشی اختیار کرے گا لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کچھ لوگوں کو علاقے کے تعمیری حالات اورموجودہ روش کو سمجھنے میں مشکلات کا سامنا ہے اور وہ پوری دنیا اور اس میں بسنے والے انسانوں  کو اپنی مرضی سے چلانے کے خواہاں ہیں۔

مرضیہ افخم نے  شام کے مستقبل کے بارے میں سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر کے بیان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ  کسی دوسرے ملک کی تقدیر کے حوالے سے غیرسفارتی اور غیر منطقی الفاظ کا استعمال سیاسی جمود کی علامت ہے-

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کی ترجمان نے یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ یہی پالیسیاں اس بات کا باعث بنی ہیں کہ علاقے کے مختلف مملک بالخصوص شام اور یمن منظم انتہا پسندی کا شکار ہوئے ہیں۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 Dec 16