Wed - 2019 January 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 86706
Published : 7/11/2015 7:48

شام میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن جاری، درجنوں دہشت گرد ہلاک اور زخمی

شام کے مختلف علاقوں میں فوج اور عوامی رضاکاروں نے اپنے تازہ آپریشن میں درجنوں دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے ۔ دوسری طرف کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال پر پابندی کی تنظیم نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ داعش نے شام میں کیمیاوی ہتھیار استعمال کئے ہیں۔
ہمارے نمائندے کے مطابق شام کی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے جوانوں نے مشرقی صوبے درعا میں دہشت گردوں کے ایک حملے کو پسپا کردیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق شام کی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے جوابی حملے میں درجنوں دہشت گرد مارے گئے۔

ایک اور رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شام کی فوج نے حمص کے جنوبی مضافات میں واقع علاقے الحزم الاواسط پر اپنا کنٹرول قائم کرلیا ہے۔ اس آپریشن میں بھی بہت سے دہشت گردوں کے مارے جانے کی خبر ہے۔ شام کے فوجیوں نے اسی کے ساتھ دہشت گردوں کی متعدد بلٹ پروف گاڑیوں اور بھاری جنگی سازوسامان کو تباہ کر دیا ہے۔ 
اسی کے ساتھ حلب کے جنوبی مضافات میں جبہت النصرہ اور فوج کے درمیان شدید جنگ کی بھی خبر ہے ۔ رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ اس سیکٹر پر جبہت النصرہ کے دہشت گردوں نے فوج کے بعض ٹھکانوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ 
ادھر حلب کے مشرق میں فوج نے شیخ احمد اور تل احمر نامی دو علاقوں میں درجنوں دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ شام سے ملنے والی ایک اور رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شام کی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے مہین نامی علاقے کو داعش کے قبضے سے آزاد کرانے کے لئے آپریشن کی تیاری مکمل کر لی ہے۔

یہ ایسی حالت میں ہے کہ شام میں سرگرم مغرب اور علاقے کی رجعت پسند حکومتوں کے حمایت یافتہ دہشت گرد وں نے شام کے عوام اور افواج کے خلاف اپنے آقاؤں سے ملنے والے کیمیاوی ہتھیار بھی استعمال کئے ہیں ۔ کیمیاوی ہتھیاروں پر پابندی کی تنظیم نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ داعش نے شام میں کیمیاوی ہتھیار استعمال کئے ہیں۔ 

کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال پر پابندی کی تنظیم نے اپنی تازہ رپورٹ میں جو روئٹرز کے ہاتھ لگی ہے، لکھا ہے کہ اس بات کا یقین حاصل ہو گیا ہے کہ حلب کے شمال میں واقع ماریہ شہر میں اکیس اگست دو ہزار پندرہ کو داعش نے مسٹرڈ گیس استعمال کی تھی ۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ اس گیس کی وجہ سے ہی شام کا ایک بچہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا۔

کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال پر پابندی کی تنظیم او پی سی ڈبلیو کی یہ رپورٹ اپنے کیمیاوی مواد کے ذخائر کی نابودی سے متعلق شام کی حکومت کے سمجھوتے کے بعد اس ملک میں مسٹرڈ گیس کے استعمال کا اولین ثبوت ہے۔ یہ رپورٹ نومبر کے اواخر میں باضابطہ طور پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کو پیش کر دی جائے گی۔ 

عراق کے علاقے کردستان کے عوام نے بھی گزشتہ مہینے کہا تھا کہ دہشت گرد گروہ داعش نے اگست کے مہینے میں مسٹرڈ گیس کے حامل مارٹر گولے شمالی عراق میں کرد پیشمرگہ فورس کے اہلکاروں پر داغے تھے۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2019 January 16