يکشنبه - 2019 مارس 24
ہندستان میں نمائندہ ولی فقیہ کا دفتر
Languages
Delicious facebook RSS ارسال به دوستان نسخه چاپی  ذخیره خروجی XML خروجی متنی خروجی PDF
کد خبر : 86801
تاریخ انتشار : 8/11/2015 9:39
تعداد بازدید : 7

یورپی پارلیمنٹ کے اسپیکر کا دورہ ایران، ایرانی حکام سے علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر تبادلہ خیال

یورپی پارلیمان کے اسپیکر مارٹن شولزہفتے کو تہران پہنچے ان کے دورے کا مقصد تہران اور یورپی یونین کے اقتصادی اور سیاسی تعلقات کو مضبوط بنانے کے علاوہ علاقائی و بین الاقوامی مسائل کے بارے میں ایرانی حکام سے تبادلہ خیال کرنا ہے۔

یورپی پارلیمان کے سربراہ مارٹن شولز ایرانی حکام سے ملاقات اور تہران- یورپی یونین تعلقات کو مضبوط بنانے کی غرض سے ہفتے کی صبح تہران پہنچے اور اسلامی جمہوریہ ایران کے اسپیکر پارلیمنٹ ڈاکٹر علی لاریجانی سے ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیا ل کیا گیا۔ بعد ازاں ایران کی مجلس شورائے اسلامی کے اسپیکر ڈاکٹر علی لاریجانی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران اور یورپ باہمی اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مارٹن شولز نے کہا کہ انہوں نے ایرانی حکام کے ساتھ ملاقاتوں میں علاقائی اور بین الاقوامی مسائل کے بارے میں بھی تبادلہ خیا ل کیا ہے۔ 

ایران کے اسپیکر ڈاکٹر علی لاریجانی نے اس موقع پر خبردار کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد گروہ داعش ایک بڑی عالمی مشکل میں تبدیل ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جانا چاہیے تاہم انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی ملک کو شام کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا حق حاصل نہیں ہے۔ 

یورپی پارلیمان کے اسپیکر مارٹن شولز کا یہ دوہ ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے گروہ پانچ جمع ایک کے درمیان طے پانے والے جوہری اتفاق رائے کے چار ماہ بعد انجام پایا ہے اس سے پہلے یورپی یونین کے امور خارجہ کی انچارج فیدریکا موگرینی اور یورپی کمیشن کے سربراہ بھی ایران کا دورہ کر چکے ہیں۔ 

یورپی پارلیمان کے اسپیکر کے دورہ تہران میں صدر حسن روحانی اور دیگر اعلی حکام سے ملاقات بھی ان کے پروگرام میں شامل ہے یورپی یونین نے اٹھارہ اکتوبر کو مشترکہ جامع ایکشن پلان کے تحت ایران کے خلاف عائد پابندیاں اٹھانے کی منظوری دے دی تھی جس کا اطلاق معاہدے کی ان شقوں پر عملدرآمد کی تصدیق کے بعد ہو گا جن کا اس معاہدے کے تحت ایران نے وعدہ کیا ہے۔ 

ایران اور پانچ جمع ایک گروپ کے درمیان ایٹمی اتفاق رائے کے بعد فرانس برطانیہ، اسپین اور جرمنی سمیت بہت سے یورپی ممالک کے اعلی حکام ایران کے ساتھ اقتصادی اور سیاسی تعلقات کے فروغ کی غرض سے تہران کا دوہ کر چکے ہیں۔


نظر شما



نمایش غیر عمومی
تصویر امنیتی :