Wed - 2018 August 15
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 88305
Published : 28/11/2015 16:13

دہشت گردوں کے خلاف شامی فوج کی کارروائی جاری

شام کے مختلف علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف شامی فوج کی کارروائیاں جاری ہیں جن کے دوران دہشت گردوں کو بھاری نقصان پہنچا ہے - اس درمیان شامی حکومت نے ترکی پر الزام لگایا ہےکہ وہ شا م اور عراق کےٹکڑے ٹکڑے کرنے کے منصوبے پر کام کررہا ہے

العالم ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شام کے مختلف علاقوں میں امن و امان برقرار کرنے کی شامی فوج کی کوششیں بدستور جاری ہیں اور انہوں نے بصری الشام جمرین سے شام کے جنوبی علاقے درعا کے مضافات کی طرف داخل ہونے کی دو دہشت گرد گروہوں کی کوششیں ناکام بنا دیں۔ ادھر شام کے شمالی علاقے حلب میں روسی لڑاکا طیاروں نے ایک ایئر بیس کے اطراف میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔

ایک اور رپورٹ کے مطابق شامی فوج نے رشیا ٹوڈے ٹی وی کی رپورٹنگ ٹیم کو دہشت گردوں کے حملوں سے بچا لیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق دہشت گردوں نے یہ واضح ہونے کے باوجود کہ یہ ٹیم نامہ نگاروں کی ہے اس کو نشانہ بنایا تھا۔ رشیا ٹوڈے کی اس رپورٹنگ ٹیم نے ذرا‏ئع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شام میں دہشت گرد، دانستہ طور پر نامہ نگاروں کی طرف فائرنگ کرتے ہیں۔ دوسری طرف شام کے مشرق میں عوامی رضاکار فورس نے قبائل سے اپیل کی ہے کہ وہ داعش سے مقابلے کے لئے مزاحمت اور شامی فوج کی صفوں میں شامل ہو جائیں۔ ا س درمیان شام کے وزیر اطلاعات عمران الزعبی نے کہا ہے کہ ترکی شام اور عراق کی نابودی اور تقسیم کے درپے ہے۔ شام کے وزیر اطلاعات عمران الزعبی نے کہا ہے کہ ترکی شام اور عراق کے ٹکڑے کرکے ان کو اپنی سرزمین میں ملانا چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ترکی اس طرح سلطنت عثمانی کا احیا کرنا چاہتا ہے۔ شامی وزیر اطلاعات نے کہا کہ شام میں روس کی فعال مداخلت سے طاقت کے توازن میں تبدیلی پیدا ہوئی اور ترکی اور اس کے مغربی اتحادیوں کا منصوبہ نقش بر آب ہوگیا۔ عمران الزعبی نے مزید کہا کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ دہشت گردی کا دائرہ آج مغربی ممالک تک پھیل گیا ہے اور پوری دنیا میں دہشت گردی سے مقابلے کے لئےمشترکہ عالمی تعاون ضروری ہے۔ قابل ذکر ہے کہ شام میں داعش کے ٹھکانوں پر روس کے حملوں سے داعش کے ذریعہ تیل کی ترکی منتقلی کے عمل میں مشکلات پیدا ہوگئی ہیں لیکن ترکی داعش سے مقابلے کے عمل پر اثر انداز نہیں ہوسکتا کیونکہ روس نے ترکی کے ذریعہ اپنے لڑاکا طیارے کی سرنگونی کے بعد داعش کے ٹھکانوں پر حملوں میں نہ صرف کمی نہیں کی ہے بلکہ اس نے حملے پہلے سے بھی زیادہ تیز کر دیئے ہیں۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 August 15