Wed - 2018 Sep 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 88773
Published : 6/12/2015 17:46

اسلامی جمہوریہ ایران اسلامی ملکوں بالخصوص استقامت کا حامی ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران اسلامی ملکوں بالخصوص استقامت کا حامی ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی تشخیص مصلحت نظام کونسل کے اسٹراٹیجیک تحقیقاتی شعبے کے سربراہ نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران تمام مسلمانوں بالخصوص استقامتی دھڑوں کی تکیہ گاہ ہے۔ ڈاکٹر علی اکبر ولایتی نے سنیچر کی رات آئی آر آئی بی کے چینل تھری سے گفتگو میں دہشتگردی کے خلاف شام، عراق اور لبنان کے لئے ایران کی حمایت کے بارے میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران ، صیہونی حکومت کے خلاف جاری استقامتی قوتوں اور اسلامی ممالک  کا حامی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عراق، شام اور لبنان علاقے میں ایران کے حامی ہیں اور حال میں روس بھی اس اتحاد میں شامل ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقے کی موجودہ حساس صورتحال کے پیش نظر ایران اور روس کے حکام کے ایک دوسرے کے ملکوں کے دورے اور صلاح و مشورے معمول کی بات ہیں۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے سابق وزیر خارجہ نے لبنان و شام کے اپنے حالیہ دورے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ روس کے صدر نے اپنے حالیہ دورہ تہران میں رہبرانقلاب اسلامی اور صدر مملکت سے نہایت اہم اور اسٹراٹیجیک گفتگو کی تھی جس سے شام کے صدر اور حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل کو آگاہ کرنا ضروری تھا۔

ڈاکٹر ولایتی نے مرکزی ایشیا، قفقاز اور روس کی طرف داعش کے بڑھتے ہوئے خطرے کے بارے میں کہا کہ ایسے حالات میں شام میں روس کی فوجی موجودگی داعش کا مقابلہ کرنے کے لئے ضروری ہے کیونکہ اگر روس شام میں داعش کا مقابلہ نہیں کرے گا تو اسے ماسکو کے دروازوں کے پیچھے داعش کا مقابلہ کرنا پڑے گا جس طرح سے کہ اگر ایران داعش کے خلاف میدان جنگ میں موجود نہ ہو تو اسے اپنی سرحدوں پر داعش کا مقابلہ کرنا پڑے گا۔

ڈاکٹر ولایتی نے کہا کہ ایران، روس، عراق اور لبنان کی مشترکہ خصوصیت یہ ہے کہ شام نے انہیں داعش کے خلاف لڑنے کی باضابطہ دعوت دی ہے لیکن اوباما کو کسی نے دعوت نہیں دی یا اقوام متحدہ نے شام و عراق میں امریکی مداخلت کے لئے کوئی قرارداد منظور نہیں کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ عراق و شام میں داعش کے مفادات کی حفاظت کرتا ہے اور اس گروہ کے ٹھکانوں پر صرف اسی وقت بمباری کرتا ہے جب اس کے عناصرامریکہ کی بات ماننے سے انکار کردیتے اور امریکہ کی گائڈ لائنز پر عمل نہیں کرتےہیں۔

ڈاکٹر ولایتی نے کہا کہ امریکہ محض اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے عراق میں موجود ہے ۔انہوں نے ترکی اور روس کی کشیدگی کے بارے میں کہا کہ دونوں ملکوں کے فائدے میں ہے کہ کشیدگی کم ہوجائے البتہ اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کم ہونے پر روس کو شام میں داعش کے خلاف حملے کرنے کا حق نہیں ہے، یا ترکی دہشتگردی کی حمایت جاری رکھ سکتا ہے

ڈاکٹر ولایتی نے کہا کہ صدر بشار اسد شام کے قانونی صدر ہیں اور شام کے عوام نے انہیں منتخب کیا ہے اور وہ اسلامی جمہوریہ ایران کی ریڈ لائین ہیں۔ ڈاکٹر ولایتی نے ایران کے خلاف ترک صدر رجب طیب اردوغان کے بیان کے بارے میں کہا کہ ہم ترک حکام کو نصیحت کرتے ہیں کہ وہ مدبرانہ موقف اپنائیں۔ انہوں نے کہا انقرہ کے حکام سے توقع کی جاتی ہے کہ بیان دیتے ہوئے تدبیر سے کام لیں اور جو آگ علاقے میں امریکہ اور صیہونیوں نے لگا رکھی ہے اس پر تیل نہ چھڑکیں۔ 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Sep 19