Monday - 2018 April 23
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 88970
Published : 8/12/2015 19:39

عراق میں ترک فوج کی موجودگی کے خلاف مظاہرہ

عراق میں ترک فوج کی موجودگی کے خلاف مظاہرہ عراقی حکام کے ساتھ ہی بڑی تعداد میں شہریوں نے بھی اپنے ملک سے ترک فوجیوں کے فوری انخلا کا مطالبہ کیا ہے-

اطلاعات کے مطابق عراقی شہریوں نے اپنے ملک میں ترک فوجیوں کی موجودگی کے خلاف منگل کو دارالحکومت بغداد میں مظاہرہ کیا۔ ترکی کے سفارت خانے کے سامنے ہونے والے اس مظاہرے میں عراق سے ترک فوجیوں کی فوری واپسی کا مطالبہ کیا گیا۔ مظاہرین نے ترکی کے خلاف نعرے لگائے اورعراقی امور میں ترکی کی مداخلت کی مذمت کی۔

ادھرعراق کے شمالی صوبے نینوا کے گورنر نے بغداد کی صوبائی کونسل سے عراق میں ترکی کے فوجیوں کی موجودگی کے نتائج کا جائزہ لینے کے لئے اجلاس بلانے کی اپیل کی ہے۔ عراق کی بدر تنظیم کے سیکریٹری جنرل ہادی العامری نے بھی عراقی عوام سے اپنے ملک کے اقتدار اعلی کی حمایت اور عراقی امور میں ترکی اورامریکا کی مداخلت کے خلاف آئندہ جمعہ کو مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔

دوسری جانب عراقی پارلیمنٹ میں قومی سلامتی کمیشن کے سربراہ حاکم الزاملی نے بغداد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عراق اپنے اقتداراعلی کا دفاع کرنے کے لیے پوری طرح تیا رہے۔ انہوں نے کہا کہ بغداد اورانقرہ کے درمیان ایسا کوئی معاہدہ نہیں ہے جس کے تحت ترک مسلح افواج کو عراق میں تعینات کیا جاسکے۔ عراق کے قومی سلامتی کمیشن کے سربراہ نے کہا کہ اگرترکی نے اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے بات نہ مانی تو عراق اپنے اقتدار اعلی کا خود دفاع کرنے کے لیے تیار ہے۔

اس سے پہلے عراق کے قومی سلامتی کمیشن کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا تھا کہ اگر ترکی نے عراق سے اپنے فوجی واپس نہ بلائے تو بغداد، انقرہ کے خلاف کسی بھی اقدام کا حق اپنے لیے محفوظ سمجھتا ہے۔

قابل ذکرہے کہ ترکی نے چار دسمبر کو ، اپنے درجنوں فوجی عراق کے شمالی صوبے نینوا کے شہر موصل روانہ کیے تھے جو بشیقہ نامی علاقے میں تعینات ہیں۔عراق نے ترکی کو اپنے فوجیوں کے انخلا کے لیے اڑتالیس گھنٹے کی مہلت دی تھی جو آج رات ختم ہورہی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ترک فوجیوں کے عراق میں داخل ہونے پرعراقی حکام نے شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ عراقی حکام نے ترکی کے اس اقدام کو عراق کے قومی اقتداراعلی کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

یاد رہے کہ ترکی کے دسیوں فوجی عراق کی کرد پیش مرگہ فورس کی تربیت کے بہانے چار دسمبر کو عراق کے شمالی صوبے نینوا کے علاقے بشیقہ میں داخل ہوگئے تھے۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 April 23